اباسین خبر

افغانستان میں دہشت گرد گروہوں پر تشویش، سلامتی کونسل کا سخت مؤقف

افغانستان میں دہشت گرد گروہوں پر تشویش، سلامتی کونسل کا سخت مؤقف

نیو یارک( مانیٹرنگ ڈیسک)اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان سرزمین پر دہشت گرد عناصر کی موجودگی اور موجودہ انتظامیہ کی جانب سے مبینہ سرپرستی ایک سنگین عالمی مسئلہ ہے۔سلامتی کونسل نے ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن کی مدت 17 جون 2027 تک بڑھا دی ہے۔ ساتھ ہی افغان انتظامیہ سے انسداد دہشت گردی کے وعدوں پر عمل درآمد اور خواتین کو مساوی حقوق دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اجلاس میں پاکستان کے نمائندے نے افغانستان سے پیدا ہونے والے دہشت گردی کے خطرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ متعدد گروہ سرحد پار حملوں میں ملوث ہیں اور افغان سرزمین کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔امریکا کے مستقل مندوب نے کہا کہ افغان انتظامیہ کو انسداد دہشت گردی کی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی، یرغمالی سفارتکاری کا خاتمہ کرنا ہوگا اور خواتین کے حقوق کی پامالی روکنا ہوگی۔لائبیریا کے نمائندے نے بھی مؤقف اختیار کیا کہ افغانستان کو ہمسایہ ممالک کے امن و سلامتی کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے اور اپنی سرزمین دہشت گرد تنظیموں کے استعمال سے روکنی چاہیے۔اجلاس میں قائم مقام افغان نمائندے نے ہرات میں مظاہرین پر فائرنگ اور خواتین کے حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔عالمی ماہرین کے مطابق افغان انتظامیہ نے ماضی میں کیے گئے وعدوں کے باوجود اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے عہد پر مکمل عمل نہیں کیا، جبکہ اندرونی سیاسی و سماجی مسائل کے حل کے لیے بھی مؤثر اقدامات سامنے نہیں آ سکے۔