متحدہ عرب امارات نے جنگ کے باعث متبادل تجارتی راستے بنانا شروع کردیئے
ابوظہبی( مانیٹرنگ ڈیسک) متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے اثرات سے نمٹنے کے لیے متبادل تجارتی راستوں کی تیاری شروع کردی گئی ہے۔متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش کے مطابق توانائی کی برآمدات اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے نئے راستے بنائے جارہے ہیں تاکہ جنگ کے باعث توانائی کی ترسیل اور معاشی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔انہوں نے بتایا کہ مشرقی ساحلی علاقوں میں بندرگاہوں کی استعداد بڑھانے پر کام جاری ہے، جبکہ پائپ لائنوں، ریلوے اور متبادل تجارتی راستوں کے منصوبے بھی زیر تعمیر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ معمول کے تعلقات بحال کیے جاسکتے ہیں۔انور قرقاش نے ایرانی حملوں کے خلاف خلیجی ممالک کے اجتماعی ردعمل کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو دوبارہ پڑوسی ممالک کا اعتماد حاصل کرنے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔ ان کے مطابق مشترکہ سوچ کو متحد اور مؤثر حکمت عملی میں تبدیل نہیں کیا جاسکا۔انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک کو ایران سے لاحق خطرے کا کئی برس سے علم تھا، تاہم وہ مشترکہ ردعمل دینے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ متحدہ عرب امارات نے اگست میں ایران کے ساتھ مالی اور اقتصادی لین دین بھی روک دیا تھا۔