ٹرمپ کا میلونی سے تنازع نرم کرنے کا اشارہ، ’’وہ اچھی شخصیت ہیں‘‘

ٹرمپ کا میلونی سے تنازع نرم کرنے کا اشارہ، ’’وہ اچھی شخصیت ہیں‘‘

Jul 8, 2026|ویب ڈیسک

انقرہ (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی کے ساتھ حالیہ سفارتی کشیدگی میں نرمی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک اچھی شخصیت ہیں، اگرچہ بعض معاملات پر ان سے اختلافات رہے ہیں۔ترک صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ ان کے اور جارجیا میلونی کے تعلقات میں کچھ تلخی ضرور پیدا ہوئی، لیکن وہ اب بھی انہیں ایک اچھی شخصیت سمجھتے ہیں۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ تعلقات میں کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب اٹلی نے امریکا کی حمایت سے انکار کیا اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر واشنگٹن کے مؤقف کا ساتھ نہیں دیا۔ ان کے بقول اس فیصلے پر انہیں مایوسی ہوئی، تاہم وہ اب بھی میلونی کو پسند کرتے ہیں، اگرچہ ان کے خیال میں انہوں نے غلط فیصلہ کیا۔یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ ماہ دونوں رہنماؤں کے درمیان سخت لفظی تنازع سامنے آیا تھا۔ٹرمپ نے ایک اطالوی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ جی 7 اجلاس کے دوران جارجیا میلونی نے ان کے ساتھ تصویر بنوانے کی درخواست کی تھی اور انہوں نے صرف ہمدردی کی بنیاد پر اس کی اجازت دی۔دوسری جانب جارجیا میلونی نے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا، جس کے بعد ٹرمپ نے اپنے مؤقف کا دوبارہ دفاع کیا۔بعد ازاں تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک ترمیم شدہ تصویر شیئر کی، جس میں میلونی کو ان کی جانب دیکھتے ہوئے دکھایا گیا تھا اور اس کے ساتھ "Restraining Order Needed" کا جملہ بھی درج تھا۔منگل کو ٹرمپ کا لہجہ پہلے کے مقابلے میں نسبتاً نرم دکھائی دیا، تاہم انہوں نے ایک بار پھر یورپی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات پر افسوس ہے کہ یورپی اتحادیوں نے ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی پالیسیوں، خصوصاً آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات میں بھرپور تعاون نہیں کیا۔