نئی دہلی( شو بز ڈیسک) بھارت کے معروف ماہرِ تعلیم، انجینئر اور سماجی کارکن سونم وانگچک نے اعلان کیا ہے کہ اگر مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان پانچ جون تک اپنے عہدے سے مستعفی نہ ہوئے تو وہ چھ جون کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج میں شریک ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی نظام میں موجود خامیوں اور بے ضابطگیوں پر جوابدہی ضروری ہے اور اس حوالے سے طلبہ کی جانب سے شروع کی گئی مہم کو وہ حمایت دیتے ہیں۔سونم وانگچک نے کہا کہ وہ نوجوانوں کی ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ نامی سوشل میڈیا تحریک کی حمایت کرتے ہیں، جو تعلیمی نظام میں شفافیت، اصلاحات اور احتساب کا مطالبہ کر رہی ہے۔ان کے مطابق نیٹ، سی یو ای ٹی اور سی بی ایس ای سمیت مختلف امتحانی نظاموں میں سامنے آنے والے مسائل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تعلیمی ڈھانچے میں گہرے اصلاحاتی اقدامات کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی پالیسیوں کی کامیابی کا انحصار صرف منصوبہ بندی پر نہیں بلکہ ان کے مؤثر نفاذ پر ہوتا ہے، جبکہ زمینی سطح پر بہتری کے بغیر کوئی بھی ہدف حاصل نہیں کیا جا سکتا۔سونم وانگچک نے واضح کیا کہ وہ حکومتی تعلیمی وژن کو مثبت سمجھتے ہیں، تاہم اس پر عملی عمل درآمد کو سب سے اہم سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق دیہی اور دور دراز علاقوں کے اسکولوں کی بہتری ہی ملک کے تعلیمی مستقبل کا تعین کرے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ احتجاج سے قبل تحریک کے بانی سے تفصیلی گفتگو کر چکے ہیں اور انہیں اس بات پر اطمینان ہے کہ یہ تحریک نوجوانوں کی حقیقی نمائندگی کر رہی ہے۔واضح رہے کہ سونم وانگچک لداخ سے تعلق رکھنے والے معروف تعلیمی ماہر اور ماحولیات کے کارکن ہیں، جنہیں عالمی سطح پر بھی ان کی تعلیمی اور سماجی خدمات کے باعث پہچانا جاتا ہے۔
تھری ایڈیٹس کے اصل ’’پھنسکھ وانگڑو‘‘ نے کاکروچ جنتا پارٹی کی حمایت کا اعلان
2 گھنٹے قبل