دہشت گردی کے خاتمے تک خیبرپختونخوا میں رہیں گے، سیاسی ایجنڈا نہیں: طلال چوہدری

دہشت گردی کے خاتمے تک خیبرپختونخوا میں رہیں گے، سیاسی ایجنڈا نہیں: طلال چوہدری

Oct 14, 2026|ویب ڈیسک

اسلام آباد( اباسین خبر) وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں آئینی اقدام سیاسی مقاصد کے لیے نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف مطلوبہ تعاون نہ ملنے پر کیا گیا ہے۔ ہمارا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں، دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک صوبے میں موجود رہیں گے۔ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ ناگزیر ہے، کیونکہ یہ مسئلہ اب صرف خیبرپختونخوا تک محدود نہیں رہا بلکہ پورے ملک کو متاثر کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دہشت گردی کی موجودگی میں نہ کاروباری سرگرمیاں جاری رہ سکتی ہیں اور نہ ہی پاکستان ترقی کرسکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو سے ڈھائی برس کے دوران وفاقی حکومت نے مسئلے کے حل کے لیے ہر ممکن طریقہ اختیار کیا اور خیبرپختونخوا کے دونوں وزرائے اعلیٰ کے مطالبات بھی پورے کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب دہشت گردوں کو واضح طور پر دہشت گرد قرار نہ دیا جائے اور ان کے خلاف مؤثر کارروائی بھی نہ ہو تو پھر حکومت کے پاس کیا راستہ باقی رہ جاتا ہے؟وزیر مملکت کے مطابق مذاکرات کے دوران وزیراعظم کی ہدایت پر ان معاملات پر بھی بات چیت کی گئی جن میں پہلے پیش رفت نہیں ہوسکی تھی۔ وزیراعظم نے مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں وزیر داخلہ کو ہدایت دی تھی کہ سیاسی قیادت کی جانب سے کیے جانے والے مطالبات تسلیم کرنے کی پوری کوشش کی جائے۔طلال چوہدری نے کہا کہ میثاقِ جمہوریت کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہونے والا تھا، لیکن متعلقہ سیاسی حلقوں نے اس پر توجہ نہیں دی۔ ان کے بقول قومی مفادات پر اتفاق رائے پیدا نہ ہونا سیاست دانوں کی ایک اور ناکامی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایک ایسا آئینی راستہ اختیار کیا ہے جس پر عمل کرنا کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے آسان نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق حکومت کا مقصد صوبے میں طویل عرصے تک رہنا نہیں، تاہم دہشت گردی کے خاتمے تک وہاں موجودگی برقرار رکھی جائے گی۔وزیر مملکت نے واضح کیا کہ جن افراد کو مقدمات میں مطلوب قرار دیا گیا ہے، انہیں گرفتار کیا جائے گا یا متعلقہ مقدمات کے تحت حراست میں رکھا جائے گا، تاہم اس کے علاوہ کسی کو گرفتار کرنے یا بند رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اس بات پر مایوسی ہوئی کہ صوبے میں حالات بہتر بنانے کے لیے خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔ بعض اضلاع میں بچوں کا اسکول جانا مشکل ہوگیا تھا، جبکہ کچھ علاقوں میں راستوں پر سفر کرنا بھی دشوار ہوچکا تھا۔طلال چوہدری نے زور دیا کہ یہ اقدام نہ خیبرپختونخوا کے خلاف ہے اور نہ ہی پشتون عوام کے خلاف، بلکہ اس کا مقصد پاکستان کا تحفظ ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ آئینی اختیار سیاسی مقاصد کے لیے نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف تعاون نہ ملنے کی وجہ سے استعمال کیا گیا ہے۔