جنوبی ایشیا میں سلامتی کی صورتحال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی: رپورٹ
اسلام آباد( اباسین خبر) جنوبی ایشیا میں سلامتی کی صورتحال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ پاکستان میں بلوچستان اور کراچی سمیت مختلف علاقوں میں دہشت گرد حملوں کے بعد ریاست نے دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائیوں اور ان کے مبینہ روابط سے متعلق شواہد پیش کیے ہیں، جبکہ دوسری جانب امریکا میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے بین الاقوامی جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیوں نے بھی منظم جرائم، منشیات کی اسمگلنگ، بھتہ خوری اور بیرون ملک ٹارگٹ کلنگ کے معاملات پر بحث کو جنم دیا ہے۔اگرچہ دونوں معاملات کی نوعیت مختلف ہے، تاہم ان سے یہ سوال سامنے آیا ہے کہ کیا جنوبی ایشیا میں سرگرم سرحد پار دہشت گردی اور منظم جرائم کے نیٹ ورکس عالمی سلامتی کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔پاکستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ بلوچستان میں ہونے والے حملوں کے پیچھے دہشت گرد عناصر ملوث تھے۔ ان کے مطابق دہشت گردوں نے شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا، جبکہ ریاست ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے بتایا کہ منگی ڈیم اور کوئٹہ پمپنگ اسٹیشن کے علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات پیش آئے، جبکہ زیارت میں کارروائی کے دوران متعدد دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔ ان کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں میں بڑی تعداد میں دہشت گرد مارے گئے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے بھی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے بیرونی عناصر کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں اور بعض گروہوں کی سرگرمیوں کا مقصد صرف سکیورٹی اداروں کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ ملکی ترقیاتی منصوبوں، بنیادی ڈھانچے اور معاشی سرگرمیوں کو متاثر کرنا بھی ہے۔پریس بریفنگ میں بتایا گیا کہ بعض دہشت گرد گروہ پاکستان مخالف کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق ایسے عناصر کا مقصد ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا اور اہم منصوبوں کو نقصان پہنچانا ہے۔دوسری جانب امریکی حکام کی جانب سے بین الاقوامی جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائیوں نے بھی عالمی سطح پر توجہ حاصل کی ہے۔ امریکی استغاثہ کے مطابق بعض بھارتی نژاد جرائم پیشہ گروہ ٹارگٹ کلنگ، منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں۔امریکی حکام کے مطابق آپریشن ہارڈ بال کے تحت بین الاقوامی جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کی گئی، جس میں متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ امریکا، کینیڈا اور یورپ میں سرگرم بعض گروہوں کے خلاف بھتہ خوری، اسلحہ، منشیات اور قتل سے متعلق مقدمات درج کیے گئے۔امریکی عدالتی دستاویزات میں بعض بھارتی نژاد جرائم پیشہ افراد اور گروہوں کا ذکر کیا گیا، جن کے خلاف بیرون ملک جرائم، ٹارگٹ کلنگ اور دیگر سرگرمیوں سے متعلق تحقیقات کی گئیں۔امریکی حکام نے خبردار کیا کہ غیر ملکی سرزمین پر قتل کی سازشیں، تارکین وطن کو ہراساں کرنا اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا استعمال عالمی قانون اور ریاستی خود مختاری کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق منظم جرائم، منشیات کی اسمگلنگ، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور سرحد پار دہشت گردی اب صرف کسی ایک ملک کا داخلی معاملہ نہیں رہے بلکہ عالمی سلامتی کے مسائل بنتے جا رہے ہیں۔ ایسے نیٹ ورکس جدید مواصلاتی ذرائع، مالیاتی نظام، جعلی شناختوں، حوالہ ہنڈی، کرپٹو کرنسی اور بین الاقوامی روابط کے ذریعے کئی ممالک میں سرگرم رہتے ہیں۔حالیہ کارروائیوں سے یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ بعض مقامی نوعیت کے نظر آنے والے جرائم پیشہ گروہ دراصل کئی ممالک تک پھیلے ہوئے عالمی نیٹ ورکس کا حصہ ہوتے ہیں۔ اگر ایسے گروہوں کو سیاسی یا جغرافیائی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ قومی اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے سنگین چیلنج بن سکتے ہیں۔مجموعی طور پر موجودہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ دہشت گردی، منظم جرائم، منشیات کی اسمگلنگ اور بیرون ملک جرائم سے نمٹنے کے لیے مضبوط داخلی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ عالمی تعاون، شفاف تحقیقات اور قانون کی مؤثر عملداری بھی ضروری ہے۔