طالبان حکومت سے روابط پر یورپی یونین کو انسانی حقوق اداروں کا انتباہ

طالبان حکومت سے روابط پر یورپی یونین کو انسانی حقوق اداروں کا انتباہ

Jul 9, 2026|ویب ڈیسک

نیویارک( مانیٹرنگ ڈیسک)عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے افغانستان کی طالبان حکومت سے روابط پر یورپی یونین کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔افغانستان میں طالبان حکومت کی سخت پالیسیوں اور اقدامات پر عالمی ادارے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔ انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے باعث اب تک کسی بھی ملک نے طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔ہیومن رائٹس واچ نے یورپی یونین اور طالبان حکومت کے درمیان مذاکرات پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین نے طالبان کے ناقص انسانی حقوق ریکارڈ کے باوجود اس حکومت کے ساتھ بات چیت کی۔تنظیم کے مطابق طالبان حکومت نے میڈیا کی آزادی محدود کر دی ہے جبکہ مخالفین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی گرفتاریوں کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ طالبان نے خواتین کی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جبکہ ان کے روزگار اور نقل و حرکت کے مواقع بھی محدود کیے گئے ہیں۔تنظیم نے کہا کہ یورپی یونین کی جانب سے طالبان کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت اور عملی روابط برقرار رکھنے کے درمیان واضح تضاد نظر آتا ہے۔اقوام متحدہ میں ڈنمارک کی مستقل مندوب کرسٹینا مارکس لاسن نے بھی طالبان حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کو عوامی زندگی سے دور کر کے ان کی آواز دبائی گئی ہے۔عالمی اداروں کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں طالبان حکومت کے طرزِ حکمرانی اور پالیسیوں پر شدید تحفظات رکھتی ہیں اور اس معاملے پر مزید سخت مؤقف اختیار کر رہی ہیں۔