بھارت میں پابندی کے باوجود فلم ’’ستلج‘‘ کی نمائش، سکھ رہنماؤں کا احتجاج
دوہا( شوبز ڈیسک) عالمی سطح پر سکھوں کے خلاف مبینہ بھارتی مظالم پر مبنی فلم "ستلج" پر عائد پابندی کے باوجود اس کی نمائش جاری ہے، جبکہ اس معاملے پر بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کے حلقوں کی توجہ بھی مرکوز ہو گئی ہے۔قطری نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ فلم مقتول سکھ کارکن جسونت سنگھ کھالرا کی زندگی پر مبنی ہے، جنہوں نے مبینہ ماورائے عدالت ہلاکتوں کی تحقیقات کے ذریعے بھارتی سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کو بے نقاب کیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پابندی کے باوجود فلم کو بھارت میں مختلف مقامات پر دکھایا جا رہا ہے۔فلم میں مرکزی کردار ادا کرنے والے بھارتی اداکار دلجیت دوسانجھ نے کہا کہ جس حکومت نے 1995 میں جسونت سنگھ کھالرا کی آواز دبانے کی کوشش کی تھی، وہ 2026 میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق بھارتی پنجاب کے مختلف دیہات میں سکھ تنظیموں، مقامی کارکنوں اور شہریوں نے فلم کی اجتماعی نمائشوں کا آغاز کر دیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ تنازع کے دوران انسانی حقوق کی تنظیموں نے جبری گمشدگیوں، حراستی ہلاکتوں اور خفیہ تدفین جیسے الزامات درج کیے تھے، جبکہ ناقدین کا مؤقف ہے کہ موجودہ بھارتی حکومت ایسی فلموں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے جو اس کے قوم پرستانہ بیانیے سے مطابقت رکھتی ہوں۔فلم کے ہدایت کار ہنی تریہان کا کہنا ہے کہ اقتدار میں موجود حلقے آزادیٔ اظہار پر قدغن لگا کر عوامی بیانیے کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ادھر امرتسر میں سکھ رہنماؤں نے فلم پر پابندی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ "ستلج" کو بغیر کسی رکاوٹ کے فوری طور پر ریلیز کیا جائے۔سکھ مذہبی رہنما بلویندر سنگھ نے کہا کہ تمام واقعات عوام کی آنکھوں کے سامنے پیش آئے، اس لیے فلم کی مخالفت کی کوئی وجہ نہیں، اور لوگوں کو سچ دیکھنے کی اجازت ملنی چاہیے۔