افغانستان میں طالبان دور میں سلامتی اور انسانی حقوق کے چیلنجز برقرار

افغانستان میں طالبان دور میں سلامتی اور انسانی حقوق کے چیلنجز برقرار

Jul 10, 2026|ویب ڈیسک

کابل( مانیٹرنگ ڈیسک) مختلف بین الاقوامی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے اقتدار کے بعد افغانستان کو سلامتی، دہشت گردی اور انسانی حقوق سے متعلق سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، جن کے اثرات خطے کے دیگر ممالک تک بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔امریکی ادارے گلوبل کانفلکٹ ٹریکر کے مطابق طالبان نے ملک بھر میں سخت قوانین کے تحت اپنا انتظامی کنٹرول قائم کر رکھا ہے، جبکہ القاعدہ سمیت بعض شدت پسند گروہوں کی افغانستان میں موجودگی اور سرگرمیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں لڑکیوں کے لیے ثانوی تعلیم پر پابندی برقرار ہے، جبکہ خواتین کو مرد سرپرست کے بغیر سفر کرنے سمیت متعدد سماجی پابندیوں کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں دہشت گرد حملوں کے خطرات بھی بدستور موجود ہیں۔جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو کی رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کے دوران خواتین بڑی حد تک عوامی زندگی سے باہر ہو چکی ہیں اور انہیں پرائمری سطح سے آگے تعلیم حاصل کرنے کی اجازت بھی حاصل نہیں۔رپورٹس میں افغانستان کی موجودہ صورتحال پر عالمی برادری کی تشویش کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جبکہ دہشت گردی، علاقائی سلامتی اور انسانی حقوق سے متعلق مختلف فورمز پر اس مسئلے پر مسلسل توجہ دی جا رہی ہے۔