بلوچستان میں نوکریوں کی فروخت برداشت نہیں ہوگی: سرفراز بگٹی
کوئٹہ (اباسین خبر) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے میں سرکاری ملازمتوں کی خرید و فروخت کسی صورت قابل قبول نہیں، جبکہ کسی محکمے میں نوکریاں فروخت کیے جانے کے مصدقہ شواہد ملنے پر متعلقہ وزیر اور سیکرٹری کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔وزیراعلیٰ کی زیر صدارت سیکرٹریز کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا، جس میں صوبائی محکموں کی کارکردگی، انتظامی معاملات اور بھرتیوں کے طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں محکمہ جنگلات میں بھرتیوں سے متعلق بے ضابطگیوں کی شکایات بھی زیر غور آئیں۔میر سرفراز بگٹی نے محکمہ جنگلات کی بھرتیوں میں مبینہ بے قاعدگیوں کا نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیا اور معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ شفاف تحقیقات کے بعد اگر کسی کے خلاف جرم کے مصدقہ شواہد سامنے آئے تو ملوث افراد کو سزا سے بچنے نہیں دیا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ پہلے دن سے واضح کر چکے ہیں کہ بلوچستان میں کوئی سرکاری نوکری فروخت نہیں ہوگی۔ اس اصول پر صوبائی کابینہ کے ارکان، چیف سیکرٹری بلوچستان اور دیگر متعلقہ حکام بھی متفق ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان سخت سردی اور شدید گرمی میں اپنی تعلیم اور بہتر مستقبل کے لیے محنت کرتے ہیں، اس لیے ان کے روزگار کو فروخت ہونے دینا ناقابل قبول ہے۔ نوجوانوں کے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔میر سرفراز بگٹی نے تمام سیکرٹریز کو ہدایت کی کہ وہ اللہ کو حاضر و ناظر جان کر عہد کریں کہ اپنے محکموں میں بلوچستان کے نوجوانوں کی ملازمتیں فروخت نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے ماتحت عملے اور ریکروٹمنٹ کمیٹیوں کی مؤثر نگرانی یقینی بنانے اور کسی بھی سطح پر بے ضابطگی برداشت نہ کرنے کی بھی ہدایت کی۔