شمالی کوریا میں نئی جوہری تنصیب، افزودگی کا عمل تیز

شمالی کوریا میں نئی جوہری تنصیب، افزودگی کا عمل تیز

Sep 10, 2026|ویب ڈیسک

شمالی کوریا ( مانیٹرنگ ڈیسک)عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے مطابق شمالی کوریا نے یورینیئم افزودگی کے لیے اپنے مرکزی یونگ بیون جوہری کمپلیکس میں ایک نئی تنصیب قائم کی ہے، جہاں 28 تک سینٹری فیوج کاسکیڈز نصب کیے جا سکتے ہیں۔آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے کانگ سون میں موجود یورینیئم افزودگی کی تنصیب کے توسیع شدہ حصے کو بھی فعال کرنا شروع کر دیا ہے۔عالمی جوہری توانائی ایجنسی نے شمالی کوریا کی ان سرگرمیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیانگ یانگ مختلف مقامات پر اپنی جوہری تنصیبات میں مسلسل توسیع کر رہا ہے۔واضح رہے کہ 2009 میں آئی اے ای اے کے انسپکٹرز کو شمالی کوریا سے نکالے جانے کے بعد سے انہیں ملک میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی، جس کے باعث ادارہ اپنی جائزہ رپورٹس کے لیے سیٹلائٹ تصاویر پر انحصار کرتا ہے۔آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر رافائل گروسی نے رواں ہفتے کے آغاز میں کہا تھا کہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کا جاری رہنا اور اس میں مزید پیش رفت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، جو انتہائی افسوس ناک امر ہے۔آئی اے ای اے نے رواں سال اپریل میں بھی کہا تھا کہ شمالی کوریا کی جوہری بم بنانے کی صلاحیت میں اضافے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق شمالی کوریا دنیا کے غریب ترین ممالک میں شمار ہونے کے باوجود کم جونگ اُن کی قیادت میں ہر سال خفیہ جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کی تیاری پر کروڑوں ڈالر خرچ کرتا ہے۔ جوہری پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے کام کرنے والے ایک تھنک ٹینک کی 2022 کی رپورٹ کے مطابق اس مقصد کے لیے سالانہ تقریباً 64 کروڑ ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں۔شمالی کوریا اب تک 6 جوہری ہتھیاروں کے تجربات کر چکا ہے، جن میں آخری تجربہ ستمبر 2017 میں کیا گیا تھا۔شمالی کوریا نے 2022 میں خود کو جوہری طاقت قرار دیتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے جوہری ہتھیاروں سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا۔