القاعدہ، ٹی ٹی پی روابط میں اضافہ، پاکستان میں حملوں کا ذکر
نیو یارک( مانیٹرنگ ڈیسک)اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان سے سرگرم عسکریت پسند نیٹ ورکس اور پاکستان میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کے درمیان روابط میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔رپورٹ کے مطابق 2001 میں افغانستان سے القاعدہ کے انخلا کے بعد اس کے جنگجو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں منتقل ہوئے، جہاں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے انہیں پناہ فراہم کی۔ 2021 میں افغانستان میں طالبان کی واپسی کے بعد القاعدہ اور ٹی ٹی پی کے باہمی روابط مزید مضبوط ہوگئے۔اقوام متحدہ کے مطابق القاعدہ نے کالعدم ٹی ٹی پی کی حکمت عملی، تربیت اور پروپیگنڈا کی صلاحیت بہتر بنانے میں معاونت فراہم کی ہے۔رواں سال اپریل میں القاعدہ کے میڈیا ونگ نے پہلی مرتبہ کھلے عام پاکستان کے خلاف کالعدم ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کی حمایت کا اعلان بھی کیا تھا۔امریکی پروفیسر امیرہ جدون کے مطابق دونوں تنظیموں کے تعلقات نچلی سطح پر عملی تعاون سے لے کر اعلیٰ سطح پر مشترکہ بیانیے کی تشکیل تک پھیلے ہوئے ہیں۔ایک ریسرچ کنسلٹنٹ کے مطابق 2020 سے القاعدہ پاکستانی طالبان پر زور دے رہی ہے کہ وہ اپنی الگ تنظیم ختم کرکے القاعدہ میں ضم ہوجائیں۔بعض ماہرین کے مطابق اس کوشش کے پس پردہ افغان طالبان کا دباؤ بھی ہوسکتا ہے۔ 2021 میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد افغان طالبان نے مختلف عسکریت پسند گروہوں کو افغانستان میں پناہ، رہائش اور مالی وظائف سمیت متعدد سہولتیں فراہم کی ہیں۔رپورٹس کے مطابق افغان طالبان نے ٹی ٹی پی، القاعدہ اور القاعدہ برصغیر سے وابستہ افراد کو مقامی شناختی کارڈ بھی جاری کیے ہیں۔ ان میں مشرقی ترکستان اسلامک موومنٹ سے وابستہ ایغور افراد بھی شامل ہیں، جو ترکستان اسلامک پارٹی کے نام سے بھی جانی جاتی ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق القاعدہ کی معاونت صرف کالعدم ٹی ٹی پی تک محدود نہیں بلکہ کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی اور اتحاد المجاہدین پاکستان سمیت دیگر عسکریت پسند گروہوں تک بھی پھیلی ہوئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ القاعدہ برصغیر، اتحاد المجاہدین پاکستان کو تربیت اور حکمت عملی کے حوالے سے معاونت فراہم کرتی ہے۔