کالعدم کمیٹی کے مالیاتی نیٹ ورک سے متعلق انکشافات سامنے آگئے
مظفرآباد( اباسین خبر) آزاد کشمیر میں سرگرم کالعدم ایکشن کمیٹی کے مبینہ مالیاتی نیٹ ورک سے متعلق نئے انکشافات سامنے آئے ہیں، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس حوالے سے کارروائیاں بھی کی ہیں۔اطلاعات کے مطابق مبینہ مالیاتی نیٹ ورک لوگوں سے رقوم جمع کرنے اور بیرون ملک سے مالی معاونت حاصل کرنے میں ملوث تھا۔ بتایا گیا ہے کہ یہ فنڈز راولاکوٹ دھرنے اور دیگر سرگرمیوں کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مبینہ مالیاتی نیٹ ورک سے وابستہ چند افراد کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار افراد میں شامل مہتاب احمد نے مبینہ طور پر بیان دیا کہ انہیں مختلف افراد سے فنڈز جمع کر کے راولاکوٹ بھجوانے کی ہدایات دی گئی تھیں، تاہم وہ رقوم منتقل کرنے سے قبل گرفتار ہو گئے۔ایک اور گرفتار شخص رضوان نے بھی دعویٰ کیا کہ اسے مختلف افراد سے رقوم وصول کر کے مہتاب احمد کے حوالے کرنے کا کہا گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق ایک ملزم کے والد نے بھی مالی معاونت سے متعلق اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیٹے نے راولاکوٹ کے لیے ان سے رقوم منگوائی تھیں، تاہم انہوں نے آئندہ اس گروپ سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی تحریک یا تنظیم کی سرگرمیوں میں غیر قانونی مالی معاونت یا تشدد شامل ہو تو اس سے عوامی مقاصد متاثر ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی مسئلے کا حل پرامن اور قانونی ذرائع سے تلاش کیا جانا چاہیے۔تجزیہ کاروں کے مطابق آزاد کشمیر کے عوام سیاسی اور سماجی معاملات میں شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے قانون اور امن و امان کے قیام کو ترجیح دے رہے ہیں۔