افغان طالبان وفد کی یورپی حکام سے ملاقات پر تنقید
کابل( مانیٹرنگ ڈیسک) برسلز میں افغان طالبان کے وفد کی یورپی یونین کے حکام سے ملاقات پر یورپی پارلیمنٹ کے اراکین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تحفظات اور اعتراضات کا اظہار کیا ہے۔یورپی پارلیمنٹ کی رکن ہنّا نوئیمان نے یورپی کمیشن کی جانب سے افغان طالبان کی میزبانی اور ان سے مذاکرات پر تنقید کرتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ افغان طالبان یورپی یونین کے ساتھ صرف تکنیکی بات چیت نہیں بلکہ اپنی سیاسی حیثیت کو تسلیم کروانے کے خواہاں ہیں۔یورپی پارلیمنٹ کی افغان کمیٹی کی سربراہ روشیل گارشیا نے بھی یورپی کمیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسے مذاکرات افغان عوام کے لیے مایوس کن ہیں اور اس نوعیت کی بات چیت افغان حکمرانوں کو عالمی سطح پر قبولیت دلانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔دوسری جانب انسانی حقوق کی عالمی تنظیم انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس نے بیلجیئم کے وفاقی پراسیکیوٹر سے رجوع کرتے ہوئے یورپی سرزمین پر موجود افغان طالبان وفد کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔تنظیم کے صدر ایلیکسیس ڈیسویف کے مطابق یورپی یونین کی سرزمین پر افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات انہیں سیاسی جواز فراہم کرنے کے مترادف ہیں۔ اسی طرح انسانی حقوق کی تنظیم کی محقق فرشتہ عباسی نے بین الاقوامی جریدے الجزیرہ کو دیے گئے بیان میں کہا کہ یورپی یونین ایک جانب افغان طالبان کی پالیسیوں پر تنقید کرتی ہے جبکہ دوسری جانب ان کے ساتھ روابط رکھ کر اپنی ساکھ کو متاثر کر رہی ہے۔بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق افغان طالبان کے ساتھ سفارتی روابط اور مذاکرات مستقبل میں ان کی پالیسیوں پر اثرانداز ہو سکتے ہیں، جبکہ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اس کے علاقائی اور عالمی سطح پر مختلف نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔