پیوٹن کا امریکا سے جنگ میں ایران کی حمایت کا اعلان
بشکیک( مانیٹرنگ ڈیسک) روسی صدر پیوٹن نے امریکا کے خلاف جنگ میں ایران کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو مشکل حالات میں تہران کو ضروری مدد فراہم کررہا ہے۔بشکیک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پیوٹن نے کہا کہ روس اور ایران کے درمیان تعاون جاری ہے اور ماسکو تہران کے ساتھ اپنے روابط اور تعاون کو برقرار رکھے گا۔روسی صدر نے امریکا اور ایران کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی ختم ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ بندی پائیدار ثابت نہیں ہوسکی۔پیوٹن کا کہنا تھا کہ یوکرین کے صدر زیلنسکی کی روسی فضائی حدود بند کرنے کی دھمکی ریاستی دہشت گردی کے مترادف ہے، جس کا ماسکو جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ روس یوکرین کے توانائی مراکز پر بڑے حملوں کی تیاری کررہا ہے اور انہیں یقین ہے کہ روسی افواج فتح حاصل کریں گی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج نے اگست کے دوران ڈونیسک ریجن کا 270 مربع کلومیٹر علاقہ قبضے میں لیا جبکہ یوکرینی فوج کی ایک بڑی تعداد کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔روسی صدر نے کہا کہ اگر کوئی امریکی نمائندہ مثبت پیش رفت لانے میں کامیاب ہوتا ہے تو ماسکو کو اس پر اعتراض نہیں ہوگا، تاہم یوکرین سے متعلق کسی بھی بات چیت کا ٹھوس ہونا ضروری ہے۔پیوٹن کے مطابق نئی پیش رفت کی صورت میں ماسکو یوکرین تنازع پر بامقصد مذاکرات کیلئے تیار ہے، تاہم دہشت گردوں سے مذاکرات نہیں کیے جاسکتے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے دشمن مسلسل کمزور ہوتا جائے گا اور روسی افواج فتح حاصل کریں گی، جبکہ روس کو درپیش اصل چیلنج ڈرونز ہیں اور ماسکو ان سے نمٹ رہا ہے۔