پی ٹی آئی کا چار اکتوبر مارچ، خیبرپختونخوا میں آئینی بحران مزید گہرا

پی ٹی آئی کا چار اکتوبر مارچ، خیبرپختونخوا میں آئینی بحران مزید گہرا

Oct 1, 2026|ویب ڈیسک

 پشاور( اباسین خبر) پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے لانگ مارچ کی تاریخ 27 ستمبر سے بڑھا کر 4 اکتوبر کرنے کے بعد سیاسی منظرنامے میں وقتی تبدیلی آئی ہے، تاہم اس فیصلے نے نئی پیچیدگیاں بھی پیدا کر دی ہیں۔ معاملہ اب صرف احتجاج میں شریک افراد کی تعداد یا اسلام آباد میں داخلے تک محدود نہیں رہا بلکہ وفاق اور خیبرپخر کرنے کے معاملے پر مکمل اتفاق نظر نہیں آتا۔ بعض رہنماؤں نے موجودہ حالات میں احتجاج ملتوی کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ چیئرمین بیرسٹر گوہر اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی 4 اکتوبر کی کال برقرار رکھنے پر قائم ہیں۔ پارٹی کے مطابق مارچ کا ابتدائی پڑاؤ صوابی ہوگاختونخوا حکومت کے درمیان آئینی و انتظامی کشمکش بھی نمایاں ہوگئی ہے۔پی ٹی آئی کے اندر بھی مارچ مؤخر کرنے کے معاملے پر مکمل اتفاق نظر نہیں آتا۔ بعض رہنماؤں نے موجودہ حالات میں احتجاج ملتوی کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ چیئرمین بیرسٹر گوہر اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی 4 اکتوبر کی کال برقرار رکھنے پر قائم ہیں۔ پارٹی کے مطابق مارچ کا ابتدائی پڑاؤ صوابی ہوگا۔وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا میں امن و امان، دہشت گردی اور انتظامی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے ہنگامی اقدامات اور گورنر راج سمیت مختلف آئینی راستوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم کی وطن واپسی کے بعد اعلیٰ سطح کے اجلاس میں صوبے کی صورتحال، پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیوں اور امن و امان کے معاملات کا جائزہ لیا گیا۔گورنر راج یا ہنگامی حالت کے حوالے سے آئین کی دفعات 232 اور 234 اہم ہیں۔ دفعہ 232 سنگین داخلی یا بیرونی خطرے کی صورت میں ہنگامی حالت نافذ کرنے سے متعلق ہے، جبکہ دفعہ 234 اس وقت لاگو ہوسکتی ہے جب صوبائی حکومت آئین کے مطابق امور چلانے سے قاصر ہو۔ دونوں صورتوں میں پارلیمانی نگرانی کا آئینی طریقہ کار موجود ہے۔دفعہ 232 کے تحت ہنگامی اعلان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے، جبکہ دفعہ 234 کے تحت جاری انتظام ابتدائی طور پر دو ماہ تک برقرار رہ سکتا ہے اور آئینی طریقہ کار کے مطابق اس میں توسیع ممکن ہے، تاہم مجموعی مدت چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔چار اکتوبر اب دونوں جانب کیلئے اہم مرحلہ بن چکا ہے۔ پی ٹی آئی کیلئے احتجاج کو منظم رکھتے ہوئے کارکنوں کو متحرک کرنا اور اندرونی اختلافات پر قابو رکھنا چیلنج ہے، جبکہ حکومت کیلئے امن و امان برقرار رکھنے کے ساتھ آئینی اور سیاسی پیچیدگیوں سے نمٹنا اہم معاملہ ہے۔ احتجاج کی واپسی سے پی ٹی آئی قیادت کو سیاسی نقصان کا سامنا ہوسکتا ہے، جبکہ گورنر راج یا ہنگامی اقدامات کے نفاذ کے بھی سیاسی اثرات سامنے آسکتے ہیں۔موجودہ صورتحال میں حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور 4 اکتوبر تک سیاسی منظرنامہ غیر یقینی دکھائی دے رہا ہے۔