لانگ مارچ سے قبل پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں اختلافات شدت اختیار کرگئے

لانگ مارچ سے قبل پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں اختلافات شدت اختیار کرگئے

Sep 4, 2026|ویب ڈیسک


 پشاور( اباسین خبر) 27 ستمبر کے اسلام آباد لانگ مارچ سے قبل پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا میں اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ پارٹی کے اہم رہنماؤں کے درمیان ایک دوسرے پر الزامات اور اختلافات نے تنظیمی صورتحال کو نمایاں کردیا ہے۔

گنڈاپور اور دوست محمد خان میں اختلاف

سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اور سینیٹر دوست محمد خان کے درمیان جنوبی وزیرستان کے ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز کے معاملے پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔دوست محمد خان نے علی امین گنڈاپور کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے جنوبی وزیرستان کے ترقیاتی فنڈز پر سوالات اٹھائے اور کہا کہ علی امین گنڈاپور صرف ایک نشست کے امیدوار ہیں۔علی امین گنڈاپور نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ مالی سال 2024-25 اور 2025-26 کے دوران جنوبی وزیرستان کے لیے 3 ارب روپے سے زائد کے فنڈز جاری کیے گئے۔

شاہ فرمان اور جنید اکبر میں بھی اختلاف

دوسری جانب سابق گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان کی جانب سے صوبائی صدر جنید اکبر خان کو ترقیاتی فنڈز دینے پر اعتراض کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان بھی اختلافات نمایاں ہوگئے۔اس معاملے کے بعد جنید اکبر خان کی ایک مبینہ صوتی ریکارڈنگ سامنے آئی، جس میں انہوں نے شاہ فرمان پر سخت الزامات عائد کیے۔ مبینہ ریکارڈنگ میں جنید اکبر خان نے کہا کہ شاہ فرمان کو معلوم ہونا چاہیے کہ مالاکنڈ کو سب سے کم فنڈز ملے ہیں۔انہوں نے مزید الزام لگایا کہ شاہ فرمان نے شکیل خان کو بلا کر ایک ٹھیکیدار سے ایک ارب روپے لینے اور رقم تقسیم کرنے کی بات کی تھی۔

مردان میں بھی اختلافات

پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات مرکزی رہنماؤں تک محدود نہیں رہے بلکہ مقامی سطح پر بھی پارٹی کارکنوں اور رہنماؤں کے درمیان اختلافات سامنے آرہے ہیں۔مردان سے منتخب پی ٹی آئی رکن صوبائی اسمبلی افتخار مشوانی کے خلاف بھی بعض کارکنوں کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے اور یہ معاملہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر زیر بحث ہے۔

پشاور میں جنرل سیکرٹری کو تنبیہی نوٹس

پشاور میں بھی پارٹی اختلافات اس وقت نمایاں ہوئے جب ضلع پشاور کے جنرل سیکرٹری خورشید عالم نے تمام اراکین اسمبلی کے گھروں کے باہر دھرنا دینے کی دھمکی دی۔خورشید عالم نے اپنی جماعت کی 13 سالہ حکومت کے وعدوں کو بھی جھوٹ قرار دیا، جس پر پی ٹی آئی کے علاقائی جنرل سیکرٹری شیر علی ارباب نے انہیں تنبیہی نوٹس جاری کردیا۔27 ستمبر کے لانگ مارچ کی تیاریوں کے دوران ترقیاتی فنڈز، پارٹی تنظیم اور مقامی رہنماؤں و کارکنوں کے درمیان اختلافات نے پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کی اندرونی صورتحال کو نمایاں کردیا ہے، جس کے باعث لانگ مارچ سے قبل پارٹی کی تنظیمی حالت توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔