پشتون قومی جرگہ کسی بھی صورت بلوچوں کے خلاف نہیں: محمود خان اچکزئی
کو ئٹہ ( اباسین خبر)پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے زیر اہتمام منعقدہ پشتون قومی جرگے کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں، نوابوں اور قبائلی مشران کے لیے اختلافات ختم کرکے موجودہ حالات کے پیش نظر متفقہ قومی لائحہ عمل تشکیل دینے کا وقت آگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ جرگہ کسی ایک سیاسی جماعت تک محدود نہیں بلکہ پوری پشتون قوم کی بقا اور مستقبل سے متعلق ہے۔ محمود خان اچکزئی کے مطابق پشتون قومی جرگہ بنوں قومی جرگے کے فیصلوں کا تسلسل ہے، جبکہ موجودہ مشکل حالات میں پشتونوں کی جان، مال اور عزت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔انہوں نے کہا کہ زیارت سانحے سمیت مسلسل رونما ہونے والے خونریز واقعات اور بدامنی کا مستقل خاتمہ ناگزیر ہے۔ سڑکوں پر آئے روز ہونے والی تلاشیوں، چیک پوسٹوں اور عام شہریوں کی تذلیل کا سلسلہ بھی ختم ہونا چاہیے۔چیئرمین پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے واضح کیا کہ پشتون قومی جرگہ کسی بھی صورت بلوچوں کے خلاف نہیں۔ ان کے مطابق بلوچ اور پشتون اپنی اپنی تاریخی سرزمینوں پر آباد ہیں اور دونوں اقوام کے درمیان نہ کوئی دشمنی ہے اور نہ جنگ۔ دونوں قومیں صدیوں سے ہمسایہ ہیں، اس لیے تمام معاملات برادرانہ مذاکرات، باہمی احترام اور امن کے ذریعے حل کیے جانے چاہئیں۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان پنجابی، سندھی، بلوچ، سرائیکی اور پشتون سمیت تمام قومیتوں کا مشترکہ وطن ہے، جہاں نہ کوئی آقا ہے اور نہ غلام۔ آئین اور قانون کے مطابق تمام قومیتوں کو مساوی حیثیت اور ان کے جائز حقوق ملنے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ برٹش بلوچستان اور تاریخی پشتون اضلاع کوئٹہ، پشین، لورالائی، ژوب، چمن، ہرنائی اور زیارت اپنی الگ جغرافیائی شناخت رکھتے ہیں۔محمود خان اچکزئی نے مطالبہ کیا کہ کوئٹہ سمیت پشتون علاقوں میں اراضی پر غیر قانونی قبضوں اور حد بندی سے متعلق تنازعات فوری طور پر حل کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بازئی قبیلے سمیت دیگر پشتون اقوام کی ہزاروں ایکڑ اراضی پر زبردستی قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔خطے کے قدرتی وسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پشتون علاقوں کے پہاڑ لیتھیم، سونے، چاندی، تانبے اور دیگر نایاب معدنیات سے بھرپور ہیں، لیکن ان وسائل کی موجودگی کے باوجود عوام بنیادی سہولیات اور خوشحالی سے محروم ہیں۔انہوں نے کہا کہ قدرتی وسائل کی فراوانی کے باوجود باصلاحیت پشتون نوجوان دبئی اور دیگر خلیجی ممالک میں محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔پشتون قوم کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پشتون قوم کی تاریخ ہزاروں برس پر محیط ہے اور اس کے آثار قدیم تاریخی حوالوں میں بھی ملتے ہیں۔