پاکستان کی مالیاتی صورتحال بہتر، عالمی سرمایہ منڈیوں تک رسائی بحال کر رہے ہیں، وزیر خزانہ

پاکستان کی مالیاتی صورتحال بہتر، عالمی سرمایہ منڈیوں تک رسائی بحال کر رہے ہیں، وزیر خزانہ

Oct 13, 2026|ویب ڈیسک

اسلام آباد( کامرس ڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی مالیاتی صورتحال میں بہتری آرہی ہے اور ملک عالمی سرمایہ منڈیوں تک دوبارہ رسائی حاصل کر رہا ہے۔ معاشی استحکام کو مزید مضبوط بنانے اور برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی کے لیے اصلاحات کا تسلسل ناگزیر ہے۔محمد اورنگزیب نے جیفریز انٹرنیشنل کے زیر اہتمام ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے گول میز اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال اور گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد بھی موجود تھے۔اجلاس کے دوران پاکستان کی بہتر ہوتی مالیاتی صورتحال، بیرونی ادائیگیوں میں پیش رفت، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے، کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور عالمی سرمایہ منڈیوں تک دوبارہ رسائی کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس نظام، توانائی، سرکاری ملکیتی اداروں اور عوامی مالیات کے شعبوں میں اصلاحات جاری رکھنا ضروری ہے۔ حکومت کی ترجیح معاشی استحکام کو مستحکم کرنے کے ساتھ پائیدار اور برآمدات پر مبنی ترقی کو فروغ دینا ہے۔اجلاس میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام پر پیش رفت، قرضوں کی ادائیگی کو پائیدار بنانے اور مالیاتی ضروریات پوری کرنے کی حکمت عملی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس ضمن میں مالی وسائل کے ممکنہ ذرائع، جن میں صکوک، پانڈا بانڈز کے مزید اجرا اور مالیاتی اثاثوں کو ڈیجیٹل ٹوکن کی شکل دینے کے امکانات شامل ہیں، پر گفتگو ہوئی۔محمد اورنگزیب نے نجکاری کے مواقع کا ذکر کرتے ہوئے کاروباری اداروں کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ اجلاس میں ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، زرعی آمدن پر ٹیکس کے نفاذ اور ڈیجیٹل ذرائع سے ٹیکس قوانین پر عمل درآمد بہتر بنانے کے امور بھی زیر بحث آئے۔شرکاء نے مالیاتی اہداف کے حصول کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان رابطہ کاری، خطے کی جغرافیائی و سیاسی صورتحال سے پیدا ہونے والے خطرات، توانائی کے تحفظ، مائع قدرتی گیس (ایل این جی) سے متعلق ذمہ داریوں اور امریکا و سعودی عرب کے ساتھ اقتصادی روابط پر بھی تبادلہ خیال کیا۔وزیر خزانہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت اصلاحاتی عمل جاری رکھے گی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کرے گی۔