اباسین خبر

پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کم، درآمدات میں اضافہ بڑا سبب قرار

پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کم، درآمدات میں اضافہ بڑا سبب قرار

کراچی (کامرس ڈیسک)پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس مئی 2026 میں نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ درآمدات میں اضافہ بتایا جا رہا ہے۔ اس اضافے نے ترسیلاتِ زر اور خدمات کی برآمدات سے حاصل ہونے والے فوائد کو جزوی طور پر کم کر دیا ہے۔صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشی بحالی کے ساتھ ساتھ ملک کے بیرونی شعبے پر دباؤ دوبارہ بڑھنا شروع ہو گیا ہے۔اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مئی 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 255 ملین ڈالر رہا، جو اپریل میں ریکارڈ کیے گئے 459 ملین ڈالر کے مقابلے میں واضح کمی ہے۔ تاہم مالی سال 2026 کے پہلے گیارہ ماہ (جولائی تا مئی) کے دوران مجموعی کرنٹ اکاؤنٹ 1.62 ارب ڈالر سرپلس میں رہا۔اعداد و شمار کے مطابق سرپلس میں کمی کی بڑی وجہ تجارتی خسارے میں اضافہ ہے، جہاں درآمدات کی رفتار برآمدات کے مقابلے میں زیادہ رہی۔جولائی تا مئی مالی سال 2026 کے دوران اشیائے درآمدات 8 فیصد اضافے کے ساتھ 58.46 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ برآمدات 5 فیصد کمی کے بعد 28.25 ارب ڈالر رہیں۔ اس دوران تجارتی خسارہ 30.2 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔معاشی ماہرین کے مطابق صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ اور درآمدی پابندیوں میں نرمی کے باعث خام مال اور دیگر اشیاء کی طلب میں اضافہ ہوا ہے، جو ایک طرف معاشی سرگرمیوں میں بہتری کی علامت ہے، مگر دوسری جانب بیرونی ادائیگیوں پر دباؤ بھی بڑھا رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل چیلنج یہ ہے کہ کیا بڑھتی ہوئی درآمدات مستقبل میں صنعتی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ کر سکیں گی یا نہیں۔ اسی عرصے کے دوران اشیاء اور خدمات کا مجموعی تجارتی خسارہ 32.21 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 27 ارب ڈالر تھا۔