پاکستانی کرکٹرز محتاط رہیں، مشکوک رابطے اور لالچ کیریئر تباہ کر سکتے ہیں
لاہور( سپورٹس ڈیسک)پاکستانی کرکٹ میں ماضی کے فکسنگ اسکینڈلز اس بات کا ثبوت ہیں کہ کھلاڑیوں کو مشکوک افراد، غیر معمولی تحائف اور پُرکشش پیشکشوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا پر اجنبی افراد کے پیغامات بھی بظاہر بے ضرر ہونے کے باوجود خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔لندن میں لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے روز ایک تقریب میں شرکت کے بعد صحافتی مصروفیات کے دوران ایک ملاقات میں ایسی معلومات سامنے آئیں جنہوں نے حیران کر دیا۔ اسی رات بعض کھلاڑیوں سے ہوٹل میں پوچھ گچھ کیے جانے اور ان کے موبائل فون تحویل میں لیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ تاہم تحقیقات مکمل ہونے تک ان کھلاڑیوں کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا مناسب نہیں۔ ممکن ہے وہ بے قصور ہوں، اس لیے ضروری ہے کہ حقائق اور شواہد سامنے آنے کا انتظار کیا جائے۔ متعلقہ کھلاڑیوں کو بھی چاہیے کہ وہ تفتیشی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔پاکستانی کرکٹ میں ماضی کے دوران میچ فکسنگ کے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں، جن سے کھیل اور ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔ اس کے باوجود بعض کھلاڑی ایسی غلطیوں کا شکار ہو جاتے ہیں جن سے ان کا کیریئر اور مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔کچھ عرصہ قبل تک پاکستان میں جوئے کی کمپنیوں کی بالواسطہ تشہیر بھی جاری رہی۔ ایسی کمپنیاں اپنے نام یا ہجے میں معمولی تبدیلی کرکے تشہیری سرگرمیاں کرتی تھیں، لیکن ان کی ویب سائٹس پر جوئے اور شرط لگانے کے روابط موجود ہوتے تھے۔ میڈیا کی جانب سے نشاندہی کے باوجود اس معاملے پر طویل عرصے تک مؤثر کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔پاکستان سپر لیگ میں ایک کھلاڑی کی جانب سے ایسی تشہیر پر اعتراض اور اشتہاری نشان پر اسٹیکر لگانے کے بعد یہ معاملہ زیادہ نمایاں ہوا۔ بعدازاں حکومت نے اس نوعیت کی تشہیر پر پابندی عائد کی۔ اگرچہ کرکٹ بورڈ نے اس پر عمل درآمد کیا، تاہم دیگر مقامات پر ایسی تشہیری سرگرمیاں جاری رہنے کی اطلاعات سامنے آتی رہیں۔ملکی کرکٹ کو فکسنگ کے واقعات سے پہنچنے والے نقصان کے پیش نظر اب اس معاملے میں سخت اور مستقل پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔ اگر کسی شخص پر کرپشن کا الزام شواہد اور قانونی کارروائی کے بعد ثابت ہو جائے تو اس کے خلاف ایسی مؤثر پابندیاں لگائی جانی چاہییں جو اسے دوبارہ کھیل سے وابستہ افراد کو متاثر کرنے سے روک سکیں۔ ماضی میں ملوث افراد کے خلاف مناسب کارروائی نہ ہونے سے نوجوان کھلاڑیوں میں بھی یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ غلطی کرنے کے باوجود بچ نکلنا ممکن ہے۔کھلاڑیوں کو اکثر مختلف نوعیت کی پیشکشیں موصول ہوتی ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے رہنمائی اور آگاہی کے باعث کئی کھلاڑی ایسی پیشکشوں کی اطلاع متعلقہ حکام کو دے دیتے ہیں، جس سے ممکنہ نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔ تاہم ہر کھلاڑی کو خود بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ کوئی شخص بلاوجہ مہنگے تحائف کیوں دے رہا ہے، ٹیم کے ہر میچ میں کیوں موجود رہتا ہے یا کسی کھلاڑی کے ساتھ غیر معمولی قربت کیوں بڑھانا چاہتا ہے۔ ایسے رابطوں کے پیچھے ذاتی مفاد یا اندرونی معلومات حاصل کرنے کا مقصد بھی ہو سکتا ہے۔سوشل میڈیا پر خواتین یا دیگر نامعلوم افراد کی جانب سے آنے والے پیغامات کے معاملے میں بھی کرکٹرز کو جذباتی ہونے کے بجائے سمجھ داری سے کام لینا چاہیے۔ انہیں ایسے پیغامات بھیجنے سے بھی گریز کرنا چاہیے جو بعد میں اسکرین شاٹس کی صورت میں سامنے آکر ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے آواز تبدیل کرنا اور جعلی مواد تیار کرنا بھی ممکن ہو چکا ہے، اس لیے فون پر گفتگو اور آن لائن رابطوں میں بھی احتیاط ضروری ہے۔ماضی میں بعض کھلاڑی مبینہ طور پر محبت کے جال یا دیگر خفیہ حربوں کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس خطرے سے بچاؤ کے لیے کھلاڑیوں کو باقاعدہ تربیت اور رہنمائی فراہم کی جانی چاہیے تاکہ وہ مشکوک رابطوں کو بروقت پہچان سکیں اور متعلقہ حکام کو آگاہ کر سکیں۔پاکستان سپر لیگ جیسے مقابلوں کی وجہ سے اب کئی پاکستانی کرکٹرز کو اچھی آمدنی کے مواقع میسر ہیں۔ ایسے میں انہیں وقتی فائدے، لالچ یا غیر ضروری تعلقات کی خاطر اپنا کیریئر داؤ پر نہیں لگانا چاہیے۔ بچپن سے سنی جانے والی بات کہ ’’لالچ بری بلا ہے‘‘ آج بھی اتنی ہی اہم ہے، اور اس پر عمل کرنا کھلاڑیوں، ملکی کرکٹ اور پاکستان کی ساکھ، تینوں کے مفاد میں ہے۔