افغانستان سے دہشتگردی، پاکستان کا طالبان رجیم سے مؤثر کارروائی کا مطالبہ
پشاور( اباسین خبر) پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ افغان طالبان رجیم کے انکار کے باوجود افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہوں اور پاکستان میں ہونے والی سرحد پار کارروائیوں سے متعلق شواہد سامنے آتے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق تحریک طالبان پاکستان کے تقریباً 6 ہزار جنگجو افغانستان میں موجود ہیں، جبکہ بعض رپورٹس میں افغان طالبان کی جانب سے گروپ کو سہولت فراہم کیے جانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔پاکستانی مؤقف کے مطابق پاکستان میں ہلاک ہونے والے افغان دہشتگردوں میں متعدد کی شناخت نام، پتے اور خاندانی تفصیلات کے ذریعے کی جاچکی ہے، جبکہ غیر شناخت شدہ افراد ان اعدادوشمار میں شامل نہیں۔ بعض افغان دہشتگردوں کی تدفین ان کے آبائی علاقوں میں ہوئی، جہاں طالبان حکام کی شرکت کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ اسی طرح پاکستان کا کہنا ہے کہ دراندازی کرنے والے بعض گروہوں میں افغان شہریوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔رپورٹس کے مطابق افغانستان میں موجود دہشتگرد عناصر امریکی اور نیٹو افواج کے چھوڑے گئے اسلحے سمیت جدید ہتھیار اور آلات استعمال کررہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی دستاویزات میں بھی تحریک طالبان پاکستان کے افغانستان میں موجود ہونے اور وہاں تربیتی مراکز کے استعمال کا ذکر کیا گیا ہے۔پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی میں پاکستانی شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو بھاری جانی نقصان کا سامنا ہے، جبکہ افغان طالبان ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔اسلام آباد نے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشتگردوں کے ٹھکانے ختم کیے جائیں اور پاکستان میں سرحد پار دراندازی کا سلسلہ روکا جائے۔