پاکستان، سویڈن سرمایہ کاری معاہدے پر مذاکرات نومبر میں متوقع
اسلام آباد( کامرس ڈیسک) پاکستان اور سویڈن کے درمیان دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے مذاکرات کا پہلا دور 17 اور 18 نومبر کو اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے۔ سویڈن نے 45 سال پرانے سرمایہ کاری معاہدے پر دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کا خیرمقدم کیا ہے۔سویڈن کی سفیر الیگزینڈرا برگ وان لِنڈے نے سویڈن پاکستان بزنس گائیڈ 2026-28 کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سویڈن پاکستان کے ساتھ دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے کو موجودہ تقاضوں کے مطابق بہتر بنانے کیلئے مذاکرات کے دوبارہ آغاز کا منتظر ہے۔یہ پیش رفت پاکستان کی جانب سے 1981 کے سرمایہ کاری معاہدے کے خاتمے کا نوٹس دیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔ حکومت پاکستان بین الاقوامی سرمایہ کاری معاہدوں کا ازسرنو جائزہ لے رہی ہے تاکہ ممکنہ بین الاقوامی ثالثی اور اس کے نتیجے میں ہونے والے بڑے مالی نقصانات سے بچا جاسکے۔حکومت نے سرمایہ کاری سے متعلق تنازعات کے حل کیلئے سرمایہ کاری محتسب کا ادارہ قائم کیا ہے جبکہ سرمایہ کاری معاہدے کے نئے ماڈل کی بھی منظوری دی جاچکی ہے، جسے مختلف ممالک کے ساتھ نئے معاہدوں میں استعمال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔سرکاری عہدیدار کے مطابق پاکستان اور سویڈن کے درمیان مذاکرات کا ابتدائی دور نومبر میں ہوگا، جبکہ پاکستان ہنگری کے ساتھ بھی سرمایہ کاری معاہدے پر بات چیت کررہا ہے اور دونوں ممالک کے ساتھ جلد معاہدے طے کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔سویڈش سفیر نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ یورپی یونین کے جنرلائزڈ سسٹم آف پریفرنسز پلس کے تحت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی تکمیل کیلئے اقدامات جاری رکھے۔ اس سے قبل یورپی یونین کے سفیر رائمونڈاس کاروبلس بھی پاکستان کو جی ایس پی پلس کے آئندہ مرحلے کیلئے متعلقہ قوانین اور بین الاقوامی کنونشنز پر عملدرآمد میں پیش رفت کی ضرورت پر زور دے چکے ہیں۔وفاقی سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ پاکستان نے یورپی یونین کے جی ایس پی پلس نظام کے تحت پانچواں جائزہ کامیابی سے مکمل کرلیا ہے اور نئے نظام کیلئے دوبارہ باضابطہ درخواست دینے کی تیاری جاری ہے۔ ان کے مطابق بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری سے پاکستان نئے یورپی یونین ضابطہ جاتی نظام میں منتقلی آسانی سے کرسکے گا۔یورپی یونین کی حالیہ جی ایس پی پلس جائزہ رپورٹ میں پاکستان پر زور دیا گیا ہے کہ آئندہ اہلیت اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی تکمیل کیلئے 2023 سے 2025 کے دوران سامنے آنے والے منفی رجحانات پر قابو پایا جائے۔ رپورٹ میں جبری گمشدگیوں، اقلیتی حقوق، ذرائع ابلاغ اور آزادی اظہار، پرامن اجتماع اور انسانی حقوق کے کنونشنز پر عملدرآمد سے متعلق خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔رپورٹ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مؤثر احتساب نہ ہونے کو بھی اہم تشویش قرار دیا گیا جبکہ پاکستان پر زور دیا گیا کہ جبری گمشدگیوں اور آزادی اظہار سے متعلق منفی رجحانات کے خاتمے کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔