سینڈمن ہسپتال کے کروڑوں کے آڈٹ پیراز، پی اے سی برہم

سینڈمن ہسپتال کے کروڑوں کے آڈٹ پیراز، پی اے سی برہم

Sep 9, 2026|ویب ڈیسک

کوئٹہ( اباسین خبر)بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں سینڈمن پراونشل سول ہسپتال کوئٹہ کے کروڑوں روپے کے آڈٹ اعتراضات پر شدید برہمی کا اظہار کیا گیا۔چیئرمین پی اے سی اصغر علی ترین کی زیر صدارت اجلاس میں سینڈمن پراونشل ہسپتال کے خصوصی آڈٹ سال 2022-23 کے پیراز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں کمیٹی ارکان فضل قادر مندوخیل، محمد خان لہڑی، صفیہ فضل، رحمت صالح بلوچ اور ولی محمد نورزئی سمیت متعلقہ محکموں کے اعلیٰ افسران اور ہسپتال انتظامیہ نے شرکت کی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ مالی سال 2017-18 سے 2021-22 کے دوران ہسپتال کے لیے مختص 10 ارب 443 ملین روپے میں سے 9 ارب 576 ملین روپے خرچ کیے گئے، تاہم محکمہ صحت اور ہسپتال انتظامیہ اخراجات سے متعلق مطلوبہ حساب اور ریکارڈ فراہم کرنے سے گریزاں ہیں۔چیئرمین اور ارکان کمیٹی نے مطلوبہ ریکارڈ بروقت پیش نہ کرنے اور پی اے سی کی سابقہ ہدایات پر عملدرآمد نہ ہونے پر محکمہ صحت کے حکام سے سخت ناراضی کا اظہار کیا۔اصغر علی ترین نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے محکمہ صحت صرف کمیٹی کے سامنے اپنا مؤقف پیش کر رہا ہے، لیکن قواعد و ضوابط پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ پی اے سی کی بارہا ہدایات کے باوجود آڈٹ اعتراضات پر کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو آئینی اور قانونی طور پر حاصل اختیارات کا مقصد سرکاری وسائل کے استعمال میں شفافیت، جوابدہی اور مالی نظم و ضبط یقینی بنانا ہے، تاہم محکمہ صحت کے طرز عمل سے یہ تاثر پیدا ہورہا ہے کہ کمیٹی کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔اجلاس میں ہسپتال میں ادویات کی غیر قانونی خریداری سے متعلق 30.016 ملین روپے کے آڈٹ اعتراض کا بھی جائزہ لیا گیا۔ خصوصی آڈٹ کے دوران سینڈمن پراونشل ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے 30.016 ملین روپے مالیت کی ادویات کی خریداری میں اہم مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی۔