بلوچستان میں 3 ہزار 800 غیر فعال اسکول فعال ہیں:سرفراز بگٹی

بلوچستان میں 3 ہزار 800 غیر فعال اسکول فعال ہیں:سرفراز بگٹی

Sep 9, 2026|ویب ڈیسک

کوئٹہ( اباسین خبر) وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ خواندگی محض پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت تک محدود نہیں بلکہ یہ بچوں کے روشن مستقبل، معاشرتی ترقی اور ایک مضبوط و خوشحال معاشرے کی بنیاد ہے۔عالمی یوم خواندگی کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ حکومت نے تعلیم کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے تعلیمی نظام کی بہتری، اسکولوں کی بحالی اور طلبہ کو تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں۔میر سرفراز بگٹی کے مطابق گزشتہ دو برس کے دوران بلوچستان میں 3 ہزار 800 سے زائد غیر فعال اسکول دوبارہ فعال کیے گئے، جبکہ 7 لاکھ 68 ہزار سے زیادہ اسکول سے باہر بچوں کو دوبارہ تعلیمی نظام میں شامل کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت 2 ہزار سے زائد نئے اسکول قائم کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ مزید 1800 اسکولوں کے قیام اور 3 ہزار موجودہ اسکولوں میں اضافی کلاس رومز تعمیر کرنے کے منصوبوں پر بھی کام شروع کیا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ شعبہ تعلیم میں افرادی قوت کی کمی پوری کرنے کے لیے میرٹ اور شفاف طریقہ کار کے تحت 15 ہزار سے زائد اساتذہ بھرتی کیے گئے، جس سے تعلیمی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے اور بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی میں مدد مل رہی ہے۔میر سرفراز بگٹی نے بتایا کہ بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے ذریعے گزشتہ دو سال کے دوران مختلف اسکالرشپ پروگرامز کے تحت 23 ہزار 520 وظائف دیے گئے۔ان وظائف میں نویں سے دسویں جماعت کے طلبہ کے لیے 1500، شہید بینظیر اسکالرشپ برائے میٹرک ضلعی پوزیشن ہولڈرز کے تحت 969، انٹرمیڈیٹ پارٹ اوّل کے لیے 1650، ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام کے 2431 اور ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئرنگ کے 552 وظائف شامل ہیں۔