بلوچستان میں ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری، دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے: آرمی حکام
راولپنڈی( اباسین خبر) بلوچستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جاری ’’آپریشن شعبان‘‘ کے دوران سکیورٹی فورسز مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔بین الاقوامی جریدے دی ڈپلومیٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق مانگی ڈیم کے قریب حملے کے بعد پاک فوج، فرنٹیئر کور (ایف سی) بلوچستان اور پولیس نے مشترکہ طور پر ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا، جس کے دوران زمینی اور فضائی کارروائیوں میں متعدد دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکام کے مطابق بعض مسلح گروہوں نے سکیورٹی فورسز اور بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بنایا، جس کے بعد یہ آپریشن شروع کیا گیا۔دی ڈپلومیٹ کے مطابق ’’آپریشن شعبان‘‘ کو بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس کو کمزور کرنے اور ریاستی عملداری کو مستحکم کرنے کے لیے ایک طویل المدتی عسکری مہم کے طور پر ترتیب دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی بلوچستان میں علیحدگی پسند مسلح گروہوں جبکہ شمالی اضلاع میں دیگر عسکریت پسند عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔رپورٹ کے مطابق اگر یہ آپریشن اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہا تو اس کے مثبت اثرات نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کی مجموعی داخلی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ مزید کہا گیا ہے کہ بہتر سکیورٹی صورتحال مستقبل میں مذاکرات اور خطے میں امن و استحکام کے امکانات کو بھی تقویت دے سکتی ہے۔دفاعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عسکری اقدامات کے ساتھ ساتھ مقامی اداروں کو مضبوط بنانا، عوامی اعتماد میں اضافہ اور معاشی ترقی کو فروغ دینا بھی دیرپا امن کے لیے ناگزیر ہے۔