نئی آٹو پالیسی مؤخر، پرانی پالیسی میں ایک سال توسیع کا امکان

نئی آٹو پالیسی مؤخر، پرانی پالیسی میں ایک سال توسیع کا امکان

Jul 15, 2026|ویب ڈیسک

اسلام آباد( کامرس ڈیسک) نئی آٹو پالیسی پر آئی ایم ایف اور ٹیرف پالیسی بورڈ کے ساتھ مذاکرات تاحال کامیاب نہ ہو سکے، جس کے باعث موجودہ آٹو پالیسی میں مزید ایک سال توسیع کیے جانے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔باوثوق ذرائع کے مطابق حکومت گزشتہ آٹو پالیسی پر مکمل عملدرآمد نہیں کر سکی، جبکہ نئی پالیسی بھی ابھی تک متعارف نہیں کرائی جا سکی۔ اس صورتحال پر وزیراعظم شہباز شریف نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نئی آٹو پالیسی کو سرمایہ کاری، روزگار اور برآمدات کے فروغ کے لیے مؤثر اور سرمایہ کار دوست بنانے کی ہدایت کی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی میں مقامی سطح پر تیار ہونے والی گاڑیوں کے لیے عالمی معیار کے سیفٹی اسٹینڈرڈز نافذ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ جو کمپنیاں بین الاقوامی حفاظتی معیارات پر پورا نہیں اتریں گی، ان کے خلاف جرمانے عائد کیے جا سکیں گے۔ اس کے علاوہ الیکٹرک، پلگ اِن ہائبرڈ اور ہائبرڈ گاڑیوں کے فروغ کے لیے بھی خصوصی اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔دوسری جانب وزارتِ صنعت و پیداوار اور وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے درمیان فور وہیلرز کے معیار اور ریگولیشنز پر اختلافات بھی سامنے آئے ہیں، جس پر قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ وزارتوں کے درمیان بہتر رابطے کی ضرورت پر زور دیا۔حکام کے مطابق نئی آٹو پالیسی پر ایف بی آر، وزارتِ تجارت، وزارتِ قانون اور دیگر متعلقہ اداروں سے مشاورت جاری ہے، تاہم آئندہ ماہ بھی اس پر حتمی اتفاقِ رائے ہونے کے امکانات کم ہیں۔ادھر پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی نے ذیلی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ الیکٹرک بائیکس کے لیے ہزاروں تکنیکی معیارات میں سے 100 سے زائد پر عملدرآمد جاری ہے، جبکہ حکومت نے جون 2030 تک الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے 100 ارب روپے کی سبسڈی مختص کر رکھی ہے، جس کے تحت ہر الیکٹرک گاڑی پر صارف کو 80 ہزار روپے تک سبسڈی دی جا رہی ہے۔