ایرانی پارلیمنٹ میں امریکا کے خلاف سخت مؤقف، مفاہمتی یادداشت ختم کرنے کا مطالبہ

ایرانی پارلیمنٹ میں امریکا کے خلاف سخت مؤقف، مفاہمتی یادداشت ختم کرنے کا مطالبہ

Jul 15, 2026|ویب ڈیسک

تہران( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کا پہلا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ارکان نے امریکا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت ختم کرنے اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق 290 رکنی پارلیمنٹ کے 180 ارکان نے مشترکہ بیان میں کہا کہ امریکا کے ساتھ موجودہ مفاہمتی یادداشت ختم کر کے نئی پالیسی اختیار کی جائے۔چار ماہ بعد ہونے والے اس اجلاس میں پارلیمانی ضوابط میں ترامیم بھی منظور کی گئیں، جن کے تحت ہنگامی حالات میں ورچوئل اجلاس منعقد کرنے کی اجازت دی گئی۔ اجلاس کے دوران آبنائے ہرمز کی اسٹریٹجک انتظام کاری سے متعلق ایک بل بھی پیش کیا گیا۔پارلیمنٹ کے متعدد ارکان نے امریکا کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کا انتقام لینے کا مطالبہ کیا، جبکہ بعض ارکان احتجاجاً سرخ پرچم بھی اٹھائے ہوئے تھے۔اجلاس میں ایرانی مسلح افواج کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا گیا اور آئندہ حکمتِ عملی طے کرنے کے لیے خصوصی مذاکراتی کمیشن کے قیام کا بھی مطالبہ کیا گیا۔