مودی سرکار طلبہ کو ہراساں کر رہی ہے:راہول گاندھی
نئی دہلی( مانیٹرنگ ڈیسک) کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے الزام عائد کیا ہے کہ مودی حکومت پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف طاقت، دھمکی اور ہراسانی کا استعمال کر رہی ہے اور ان کے اہلخانہ پر دباؤ ڈال کر معافی مانگنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔نئی دہلی میں مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ نوجوانوں نے آئین، تعلیمی نظام اور ملک کے مستقبل کے لیے آواز اٹھائی، تاہم احتجاج کے دوران ان کی جانب سے کسی قسم کا تشدد نہیں کیا گیا۔ اس کے باوجود مظاہرین پر لاٹھیاں برسائی گئیں، انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اب بھی ہراساں کیا جا رہا ہے۔انہوں نے طلبہ سے کہا کہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا، اس لیے کسی سے معافی مانگنے کی ضرورت نہیں۔راہول گاندھی نے وزیر داخلہ امیت شاہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر پولیس کی کارروائی ان کے علم کے بغیر ہوئی تو یہ ان کی ذمہ داریوں میں ناکامی ہے، جبکہ اگر کارروائی ان کی ہدایت پر کی گئی تو وہ اس کے براہ راست ذمہ دار ہیں۔ ان کے مطابق دونوں صورتوں میں جوابدہی وزیر داخلہ کی بنتی ہے۔کانگریس رہنما نے مزید کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ میڈیا کے سامنے آ کر اس معاملے سے متعلق سوالات کا سامنا کریں۔