مو لانافضل الرحمن کا محسن نقوی سے استعفے کا مطالبہ، نئے صوبوں کے وقت پر سوال اٹھا دیے

مو لانافضل الرحمن کا محسن نقوی سے استعفے کا مطالبہ، نئے صوبوں کے وقت پر سوال اٹھا دیے

Aug 5, 2026|ویب ڈیسک

کوئٹہ( اباسین خبر) جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں واضح کرنا چاہیے کہ انہوں نے کس حیثیت سے یہ مؤقف پیش کیا۔ اگر حکومتی نظام ناکام ہے تو وزیر داخلہ حکومت کو مستعفی ہونے کا مشورہ دیں یا خود عہدہ چھوڑ دیں۔کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ محسن نقوی ان کے بھائی ہیں لیکن وہ وقت سے پہلے بالغ ہو گئے ہیں، انہیں یہ بھی بتانا ہوگا کہ بیان ذاتی حیثیت میں دیا یا حکومت کی پالیسی کے طور پر۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو بھی اس معاملے پر وضاحت کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام اصولی طور پر نئے صوبوں کے قیام کی مخالف نہیں، تاہم موجودہ حالات میں یہ سوال اہم ہے کہ کیا ملک اس اقدام کے لیے تیار ہے۔ صوبوں، ڈویژنوں اور اضلاع کی تشکیل انتظامی معاملہ ہے، جس کے لیے مکمل تیاری اور عوامی رائے ضروری ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ملک اس وقت مہنگائی، بدامنی اور دیگر سنگین مسائل سے دوچار ہے، ایسے حالات میں صوبوں کے قیام کی بحث عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کا باعث بن سکتی ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب مشترکہ گھر میں آگ لگی ہو تو پہلے آگ بجھائی جاتی ہے، گھر تقسیم نہیں کیا جاتا۔انہوں نے بلوچستان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں حالات خراب ہیں، مسلح گروہ سرگرم ہیں اور عوام عدم تحفظ کا شکار ہیں، مگر حکمران صورتحال سے غافل نظر آتے ہیں۔ ان کے مطابق ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے واضح قومی پالیسی موجود نہیں۔جمعیت علماء اسلام کے سربراہ نے کہا کہ طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں، اس وقت قومی سطح پر مشاورت اور انصاف پر مبنی پالیسی کی ضرورت ہے۔محمود خان اچکزئی کی جانب سے جرگہ بلانے کے حوالے سے سوال پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ انہیں اس کا علم نہیں، تاہم محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہیں، اس لیے انہیں کسی ایک علاقے یا قومیت کے بجائے تمام اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس بلانا چاہیے تاکہ ملکی مسائل پر مشترکہ حکمت عملی بنائی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو جمعیت علماء اسلام خود ملکی سطح پر آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرے گی۔مولانا فضل الرحمن نے نوجوانوں کو بھی پیغام دیا کہ وہ جذبات کے بجائے تجربہ کار سیاسی قیادت کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں، کیونکہ سیاسی جدوجہد دانشمندی اور حکمت عملی سے ہی کامیاب ہوتی ہے۔