افغانستان میں طالبان مخالف مزاحمت تیز، نیا مسلح گروپ بھی سامنے آگیا

افغانستان میں طالبان مخالف مزاحمت تیز، نیا مسلح گروپ بھی سامنے آگیا

Aug 5, 2026|ویب ڈیسک

کابل( مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت کا دائرہ بڑھنے لگا ہے، جہاں ایک نئے طالبان مخالف گروپ کے سامنے آنے کی اطلاعات ہیں۔ذرائع کے مطابق طالبان کے طرزِ حکمرانی، مبینہ نسلی امتیاز، بدعنوانی، تعلیم، روزگار اور انسانی حقوق سے متعلق پابندیوں کے خلاف عوامی ردعمل میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ افغان شہریوں کی یورپ کی جانب نقل مکانی میں بھی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان کے صوبہ فاریاب میں طالبان مخالف نیا گروپ سامنے آیا ہے، جہاں پیر کے روز طالبان کے خلاف کارروائی لبریشن فرنٹ کے جنگجوؤں نے کی۔ بتایا گیا ہے کہ یہ گروپ چند روز میں اپنی تنظیمی ساخت اور آئندہ کی سرگرمیوں کا باضابطہ اعلان کرے گا۔ذرائع کے مطابق افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے سربراہ جنرل سمیع سادات اور افغانستان فریڈم فرنٹ کے جنرل یاسین ضیا بھی طالبان کے خلاف مزاحمت میں اضافے کا اعلان کر چکے ہیں۔حالیہ ہفتوں میں بدخشان کے یفتل، زیبک اور ارگو اضلاع میں طالبان مخالف کارروائیوں کے بعد فاریاب بھی مزاحمتی سرگرمیوں کا نیا مرکز بن کر سامنے آیا ہے، جبکہ غورمچ ضلع میں بھی طالبان کو نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔دوسری جانب ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران طالبان نے 186 سابق فوجی اہلکاروں کو ہلاک کیا ہے، تاہم ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔