خیبرپختونخوا میں غیرقانونی سونے کی کان کنی کیخلاف بڑا فیصلہ

خیبرپختونخوا میں غیرقانونی سونے کی کان کنی کیخلاف بڑا فیصلہ

Sep 15, 2026|ویب ڈیسک

پشاور (اباسین خبر) خیبرپختونخوا میں سونے کی غیرقانونی کان کنی کا وزیراعظم شہباز شریف نے نوٹس لے لیا۔ وزیراعظم آفس سے موصولہ چار صفحات کی خفیہ رپورٹ میں کوہاٹ ریجن میں غیرقانونی پلیسر گولڈ مائننگ کی نشاندہی کرتے ہوئے کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔رپورٹ کی روشنی میں صوبائی حکومت نے مختلف اضلاع میں غیرقانونی سونے کی کان کنی کے خلاف فوری اور مربوط آپریشن کا فیصلہ کیا ہے۔ غیرقانونی کھدائی بند کرانے، استعمال ہونے والی مشینری قبضے میں لینے اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں۔حکومت نے کان کنی میں سرکاری اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت، سرپرستی یا سہولت کاری کے الزامات کی آزادانہ تحقیقات کرانے کی بھی ہدایت کی ہے۔ واضح کیا گیا ہے کہ صرف ایف آئی آر کا اندراج کافی نہیں ہوگا بلکہ گرفتاری، چالان، سزا، جرمانے، مشینری کی ضبطی اور غیرقانونی سرگرمی دوبارہ شروع ہونے سے متعلق عملی نتائج کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔صوبائی حکومت نے انسپکٹر جنرل پولیس، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ و قبائلی امور، سیکریٹری معدنیات، ڈویژنل کمشنرز اور ضلعی انتظامیہ کو مراسلے جاری کرکے کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔مراسلے کے مطابق محکمہ معدنیات، محکمہ داخلہ، پولیس اور متعلقہ انتظامیہ نشاندہی کیے گئے علاقوں میں مشترکہ کارروائی کریں گے۔ غیرقانونی کھدائی فوری طور پر روکی جائے گی اور کان کنی میں استعمال ہونے والی غیرمجاز مشینری و آلات قبضے میں لیے جائیں گے۔تمام اضلاع میں قانونی اور غیرقانونی سونے کی کان کنی کے مقامات کا مکمل ریکارڈ تیار کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ ریکارڈ میں مقامات کی جیو ٹیگ شدہ لوکیشن، ملوث افراد، مشینری، ملکیت و رجسٹریشن، ایف آئی آرز، ضبط شدہ سامان اور مقدمات کی موجودہ صورتحال شامل ہوگی۔حکومت نے غیرقانونی کان کنی کی روک تھام کے لیے معدنیات، پولیس اور ضلعی انتظامیہ سمیت متعلقہ اداروں کی مشترکہ چیک پوسٹیں قائم یا مزید مؤثر بنانے اور نگرانی کا نظام مضبوط کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ مشینری اور نکالے گئے معدنی مواد کی غیرقانونی نقل و حرکت روکی جاسکے۔محکمہ معدنیات کو فیلڈ اسٹاف اور چیک پوسٹوں کی ضروریات فوری طور پر پیش کرنے جبکہ محکمہ داخلہ، پولیس اور کمشنرز کو نفاذی معاونت فراہم کرنے کا کہا گیا ہے۔مراسلے میں قرار دیا گیا ہے کہ جن افسران یا اہلکاروں پر الزامات ہیں، معاملہ انہی کو واپس بھیج کر تحقیقات نہیں کرائی جائیں گی بلکہ آزادانہ حقائق معلوم کرنے یا انکوائری کے ذریعے ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا۔ ثابت شدہ غفلت، دانستہ قانون شکنی، سہولت کاری یا بدعنوانی پر محکمانہ کارروائی ہوگی جبکہ رشوت، مالی فائدے یا مجرمانہ سہولت کاری کے شواہد ملنے پر معاملہ متعلقہ تحقیقاتی ادارے کو بھیجا جائے گا۔حکومت نے سونے کے ذخائر اور قانونی کان کنی کی پیداوار کے سائنسی تخمینے کے لیے قابل اعتماد تکنیکی نظام بنانے، بڑے معدنی بلاکس کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے اور مزید علاقوں کی نشاندہی کا عمل تیز کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔اس کے علاوہ معدنی حقوق کی نیلامی، مشترکہ منصوبوں یا دیگر طریقوں سے الاٹمنٹ کو متعلقہ قوانین اور مجاز فورمز کے فیصلوں کے مطابق یقینی بنانے اور قانونی کان کنی جلد شروع کرنے کی حوصلہ افزائی پر زور دیا گیا ہے۔صوبائی حکومت نے متعلقہ اضلاع سے 7 روز کے اندر ابتدائی کارروائی رپورٹ طلب کرلی ہے، جس میں بند کیے گئے مقامات، ضبط شدہ مشینری، شناخت شدہ افراد اور ان کے خلاف اقدامات کی تفصیلات شامل ہوں گی، جبکہ محکمہ معدنیات کو 15 روز میں مجموعی صورتحال اور مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔