جے یو آئی کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے آئینی جواز پر سوال

جے یو آئی کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے آئینی جواز پر سوال

Oct 19, 2026|ویب ڈیسک

اسلام آباد( اباسین خبر)جمعیت علمائے اسلام (ف) نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے آئینی و قانونی طریقۂ کار پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔جے یو آئی (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت کارروائی کرتے ہوئے آئینی تقاضوں کو نظرانداز کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان کی ہدایت پر اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کو خطوط ارسال کیے گئے ہیں، جن میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے متعلق ضروری دستاویزات اور ریکارڈ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔سینیٹر کامران مرتضیٰ کے مطابق صدرِ مملکت کی جانب سے منظوری دیتے وقت اطمینان کی وجوہات تحریری طور پر سامنے آنی چاہییں تھیں، جبکہ فیصلے کی بنیاد بننے والا متعلقہ مواد بھی پیش کیا جانا ضروری تھا۔انہوں نے کہا کہ گورنر راج کے معاملے میں وزیراعظم کی سمری کے بجائے گورنر کی رپورٹ بنیادی اہمیت رکھتی ہے، تاہم یہ رپورٹ تاحال سامنے نہیں آئی۔کامران مرتضیٰ کا مزید کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے متعلق ضروری دستاویزات پارلیمان میں بھی پیش نہیں کی گئیں، جس کے باعث اس اقدام کے آئینی اور قانونی طریقۂ کار پر سوالات پیدا ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ متعلقہ ریکارڈ طلب کرنے کا مقصد ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی آئینی بنیاد، قانونی اختیار اور اختیار کیے گئے طریقۂ کار کا جائزہ لینا ہے۔