خیبر پختونخوا کی معدنیات عوام کی ملکیت ہیں اور رہیں گی: طارق فضل چودھری
اسلام آباد ( اباسین خبر) وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کی معدنیات عوام کی ملکیت ہیں اور ہمیشہ عوام کی ہی رہیں گی۔وفاقی دارالحکومت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چودھری نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا بنیادی مقصد دہشت گردی کا خاتمہ اور متاثرہ اضلاع میں امن و امان کی صورتِ حال بہتر بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے 12 متاثرہ اضلاع سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے گا، جبکہ انٹیلی جنس بنیادوں پر کیے جانے والے آپریشنز میں بھی تیزی لائی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق متاثرہ اضلاع سے آبادی کی نقل مکانی نہیں ہوگی اور ان علاقوں میں صوبائی حکومت کی عمل داری قائم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ایمرجنسی کے معاملے کو معدنیات سے جوڑنا قابلِ مذمت ہے۔ معدنیات کے لائسنس جاری کرنے کے معاملے پر شفاف تحقیقات کی جائیں گی۔ انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں کو نقصان پہنچانے کے بجائے امن کے قیام کے لیے اقدامات کی حمایت کی جانی چاہیے۔طارق فضل چودھری نے خیبر پختونخوا حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت نے کرپشن کے سوا کچھ نہیں کیا۔سیاسی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محمود اچکزئی کے معاملے پر اپوزیشن تقسیم ہے اور اس کی اکثریت انہیں اپوزیشن لیڈر کے طور پر نہیں دیکھنا چاہتی۔ انہوں نے محمود اچکزئی پر زور دیا کہ وہ پارلیمنٹ میں آکر اپنی پوزیشن واضح کریں۔وفاقی وزیر نے مولانا فضل الرحمان سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گردی کے معاملے پر اپنا مؤقف واضح کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے دروازے بند نہیں ہوئے اور حکومت بامقصد بات چیت کے لیے تیار ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر اپوزیشن سنجیدگی کے ساتھ بامقصد مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو حکومت اس کا خیرمقدم کرے گی۔