واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک حالیہ انٹرویو میں اپنے روایتی اسرائیل نواز مؤقف سے ہٹ کر اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل یا نیتن یاہو پر کی جانے والی ہر تنقید کو یہود دشمنی قرار نہیں دیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسی غلط فہمی ہے جسے بعض حلقے مسلسل فروغ دیتے ہیں، حالانکہ کسی حکومت پر تنقید کو مذہبی یا نسلی دشمنی کے برابر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔جے ڈی وینس نے اپنی گفتگو میں دو اہم نکات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پہلا یہ کہ امریکی اور اسرائیلی مفادات کو ایک جیسا نہیں سمجھا جا سکتا، جبکہ دوسرا یہ کہ ہر سیاسی تنقید کو یہود دشمنی سے جوڑ دینا درست نہیں۔ان کے مطابق اگر ہر بات کو یہود دشمنی قرار دیا جائے تو اصل مسئلے کی سنجیدگی کم ہو جاتی ہے اور حقیقی مسائل کی نشاندہی مشکل ہو جاتی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق جے ڈی وینس کے حالیہ بیانات ان کے مؤقف میں واضح تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں، کیونکہ ماضی میں وہ اس نوعیت کی کھلی تنقید سے گریز کرتے رہے ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف کشیدگی اور غزہ و لبنان کی صورتحال کے تناظر میں ان کے اس مؤقف کو امریکی پالیسی مباحث میں اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
جے ڈی وینس کے اسرائیل سے متعلق بیان نے امریکی سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی
واپس خبروں پر
Category:
عالمی خبریں