ایران کا امریکا پر عبوری معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام
تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران نے امریکا پر عبوری معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ اقدامات نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایران کے انتظامات کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے، جبکہ لبنان میں اسرائیلی حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے، جس کے باعث عبوری معاہدے کی مؤثریت متاثر ہو رہی ہے۔وزارت خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور لبنان کی موجودہ صورتحال نے معاہدے پر عمل درآمد کو مشکل بنا دیا ہے۔ایرانی حکام نے خطے کے ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی امریکی کارروائی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ کشیدگی کے سنگین نتائج کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے۔ایران کا مزید کہنا تھا کہ حملوں اور ایرانی تیل کی فروخت پر دوبارہ پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی بعض شقیں اپنی عملی افادیت کھو چکی ہیں۔ ایران نے خبردار کیا کہ اس کے خلاف جارحیت یا حملوں کے لیے استعمال ہونے والے مقامات کو نشانہ بنایا جائے گا۔دوسری جانب امریکی فوج کی حالیہ کارروائیوں کے بعد ایران کی پاسداران انقلاب نے بھی ردعمل ظاہر کیا ہے۔پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ ایران کے جنوبی علاقے میں ایک امریکی ڈرون مار گرایا گیا ہے، جبکہ بحرین اور کویت میں 85 امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔