درآمدی گندم مقامی پیداوار سے مہنگی پڑے گی، وفاقی وزیر کا اعتراف
اسلام آباد (کامرس ڈیسک) وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے اعتراف کیا ہے کہ بیرون ملک سے منگوائی جانے والی گندم کی قیمت مقامی گندم کے مقابلے میں زیادہ ہوگی۔قومی اسمبلی کی غذائی تحفظ کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزیراعظم بھی گندم کی سپورٹ پرائس مقرر کرنے کے حق میں ہیں۔اجلاس کے دوران رکن کمیٹی رانا حیات نے سوال کیا کہ جب ملک میں گندم موجود ہے تو پھر درآمد کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟ جس پر رانا تنویر حسین نے کہا کہ انہوں نے صوبوں سے گندم کے ذخائر سے متعلق معلومات طلب کی تھیں۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی گندم کو شامل کیے بغیر بھی وفاق کے پاس تقریباً 10 لاکھ ٹن گندم موجود ہے، جبکہ بیرون ملک سے درآمد کی جانے والی گندم کی قیمت 4200 سے 4300 روپے فی من تک پہنچ سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبوں کو گندم کی دستیابی سے متعلق خطوط ارسال کیے گئے تھے اور اگر گندم کی کمی ہوتی تو قیمت 3800 روپے فی من مقرر کرنے کی تجویز دی گئی تھی، تاہم کسی صوبے نے جواب نہیں دیا۔رانا تنویر حسین کا کہنا تھا کہ اگر مقامی گندم کی قیمت 4500 روپے فی من مقرر کر دی جائے تو کسان مہنگی کھاد استعمال کرنے کے باوجود پیداوار بڑھا سکتے ہیں، جس سے ملک میں گندم کا اضافی ذخیرہ پیدا ہو سکتا ہے۔