آئی ایم ایف کے اعتراضات برقرار، نئی آٹو پالیسی پر فیصلہ مؤخر

آئی ایم ایف کے اعتراضات برقرار، نئی آٹو پالیسی پر فیصلہ مؤخر

Oct 7, 2026|ویب ڈیسک

اسلام آباد( کامرس ڈیسک)پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان نئی آٹو پالیسی پر مذاکرات کے باوجود آئی ایم ایف کے اعتراضات تاحال ختم نہیں ہوسکے۔وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق حکومت 2 کروڑ روپے تک مالیت رکھنے والی برقی گاڑیوں پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے سے متعلق فیصلہ نہیں کرسکی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے 75 ہزار ڈالر مالیت تک کی برقی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس ایک فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔حکومت پاکستان نے آئی ایم ایف کو نئی آٹو پالیسی سے متعلق اپنے مؤقف پر بریفنگ دی۔ حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ برقی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں کمی کا فیصلہ ماحول دوست گاڑیوں کے فروغ کے لیے کیا گیا ہے۔حکومت نے آئی ایم ایف کو یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ متعلقہ اسکیم کے تحت گاڑیوں کی مالیت ایک سال تک تبدیل نہیں کی جائے گی۔وزارت صنعت و پیداوار کے ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ نئی آٹو پالیسی پر مذاکرات مزید جاری رہیں گے۔