سڈنی ( سپورٹس ڈیسک)سابق آسٹریلوی وکٹ کیپر بیٹر این ہیلی اپنی ٹیم کی کارکردگی پر برس پڑے ہیں اور انہوں نے آسٹریلوی بیٹرز کے اسپنرز کو کھیلنے کے انداز پر شدید سوالات اٹھا دیے ہیں۔این ہیلی کا کہنا ہے کہ انہیں نہیں معلوم دیگر ممالک کی صورتحال کیا ہے، لیکن آسٹریلوی کھلاڑیوں کے لیے 50 اوورز کی کرکٹ مشکل ہوتی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں آسٹریلوی بیٹنگ کا زیادہ انحصار ٹریوس ہیڈ اور اسٹیو اسمتھ جیسے کھلاڑیوں پر ہوتا ہے، جبکہ ون ڈے فارمیٹ میں بیٹرز طویل اننگز کھیلنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔این ہیلی کے مطابق آسٹریلوی بیٹرز اکثر زیادہ جارحانہ کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں اور زیادہ باؤنڈریز مارنے کے چکر میں صبر کا مظاہرہ نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اسپنرز کے خلاف بیٹنگ کے لیے ضروری ہے کہ کریز سے آگے بڑھ کر کھیلا جائے اور خوف کے بجائے جارحانہ انداز اپنایا جائے، تاہم آسٹریلوی بیٹرز ایسا نہیں کر پا رہے۔سابق وکٹ کیپر نے مزید کہا کہ وہ خود کو کوئی بڑا ماہر نہیں سمجھتے لیکن ڈین جونز کی مثال ضرور دیتے ہیں، جو اسپنرز کے خلاف بہتر حکمت عملی رکھتے تھے۔ان کے مطابق ڈین جونز کریز سے نکل کر کھیلتے تھے، گیند کی لائن پر حملہ کرتے اور اگر موقع نہ ملتا تو لیگ سائیڈ پر شاٹس کھیل کر دباؤ کم کرتے تھے۔این ہیلی کے اس بیان کے بعد آسٹریلوی ٹیم کی اسپن کے خلاف حکمت عملی پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
این ہیلی آسٹریلوی بیٹنگ پر برہم، اسپن کے خلاف کمزور حکمتِ عملی پر سوال اٹھا دیے
7 گھنٹے قبل