اسلام آباد( کامرس ڈیسک) حکومت نے قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے خزانہ کے ساتھ ٹیکس ریلیف کے مکمل حجم کی تفصیلات شیئر کرنے سے انکار کر دیا ہے۔کمیٹی ذرائع کے مطابق نئے بجٹ میں دیے گئے ٹیکس ریلیف کا مجموعی حجم تقریباً 360 ارب روپے بتایا جا رہا ہے، تاہم سیکرٹری خزانہ نے مؤقف اختیار کیا کہ آئی ایم ایف سے جاری مذاکرات کے باعث تفصیلات ظاہر نہیں کی جا سکتیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ اس ریلیف کی تلافی اضافی ریونیو اور انفورسمنٹ اقدامات کے ذریعے کی جائے گی، جبکہ بعض تفصیلات چیئرمین کمیٹی کے ساتھ نجی طور پر شیئر کی گئی ہیں۔رپورٹس کے مطابق ریلیف میں پراپرٹی سیکٹر، تنخواہ دار طبقے، ایئر ٹکٹوں اور کریڈٹ کارڈز پر ٹیکس میں کمی شامل ہے۔اجلاس کے دوران بعض ارکان نے اس بات پر تحفظات کا اظہار کیا کہ اہم مالی تفصیلات پارلیمانی کمیٹی سے مکمل طور پر شیئر نہیں کی گئیں، جسے غیر شفاف طرز عمل قرار دیا گیا۔ذرائع کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف مذاکرات کے دوران پراپرٹی سیکٹر سے متعلق ٹیکس میں کمی پر تحفظات کا بھی سامنا کیا ہے۔