طالبان حکومت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی تشویش برقرار
کابل( مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان میں طالبان حکومت کی انسانی حقوق سے متعلق پالیسیوں پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار جاری ہے، جبکہ مختلف بین الاقوامی حلقے خواتین کے حقوق، تعلیم اور معاشی صورتحال پر مسلسل تنقید کر رہے ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کے دور میں خواتین کی تعلیم، نقل و حرکت اور سماجی آزادیوں پر سخت پابندیاں عائد ہیں، جبکہ ملک میں بھوک، غربت اور انسانی بحران لاکھوں افغان شہریوں کو متاثر کر رہا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صحت کی بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری بھی افغان شہریوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔افغان خواتین اور انسانی حقوق کے لیے امریکا کی سابق خصوصی نمائندہ رینا امیری نے کہا ہے کہ طالبان کی سخت گیر پالیسیوں نے افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کو مزید پیچیدہ اور سنگین بنا دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کی پالیسیوں پر عالمی سطح پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے اور مختلف ممالک و بین الاقوامی ادارے افغانستان میں انسانی حقوق، بالخصوص خواتین کے حقوق کے تحفظ پر زور دے رہے ہیں۔