حوثی حملوں کے بعد باب المندب میں بحری آمدورفت نمایاں کم

حوثی حملوں کے بعد باب المندب میں بحری آمدورفت نمایاں کم

Jul 27, 2026|ویب ڈیسک

صنعا( مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب کے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں تیل کی تنصیبات پر حوثیوں کے حملوں اور سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد باب المندب اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کی بحری تجزیاتی پلیٹ فارم کپلر کے اعداد و شمار پر مبنی رپورٹ کے مطابق اتوار کے روز باب المندب آبنائے سے صرف 11 تجارتی جہاز گزرے، جو گزشتہ کئی ماہ کے دوران یومیہ گزرنے والے جہازوں کی کم ترین تعداد ہے۔رپورٹ کے مطابق ان 11 جہازوں میں سے 7 آئل ٹینکر تھے، جن میں 3 بحیرہ احمر میں داخل ہوئے جبکہ 4 ٹینکر بحیرہ احمر سے باہر روانہ ہوئے۔اعداد و شمار سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہفتہ اور اتوار کے دوران آبنائے ہرمز سے بھی یومیہ 10 سے کم جہاز گزرے، حالانکہ امریکا اور ایران کے درمیان عارضی طور پر حملے روکنے کا اعلان کیا جا چکا ہے۔رپورٹ کے مطابق ہفتے کے روز صرف 3 تجارتی جہازوں نے اپنے ٹرانسپونڈر بند کرکے یہ راستہ اختیار کیا، جبکہ اتوار کو مجموعی طور پر 7 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جن میں ایران سے منسلک 3 تیل بردار جہاز بھی شامل تھے جو آبنائے ہرمز سے باہر نکلے۔