جنوبی وزیرستان میں منشیات کے بڑھتے رجحان پر شہریوں کی تشویش
وانا ( اباسین خبر) جنوبی وزیرستان، خصوصاً وانا اور اس کے نواحی علاقوں میں منشیات کے بڑھتے استعمال اور مبینہ کھلے عام فروخت پر شہریوں نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے فوری اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ وانا کے مختلف بازاروں اور عوامی مقامات پر منشیات کی مبینہ خرید و فروخت جاری ہے، جس کے باعث نوجوان اور طلبہ تیزی سے اس لعنت کا شکار ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس صورتحال نے والدین اور شہریوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ منشیات کے بڑھتے رجحان نے متعدد خاندانوں کو متاثر کیا ہے اور نوجوان نسل کا مستقبل خطرات سے دوچار ہو رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس مسئلے کی روک تھام کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کیے جائیں۔مقامی آبادی نے حکومت، پولیس اور سول انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ منشیات فروشوں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف وقتی چھاپوں کے بجائے منظم حکمت عملی، مسلسل نگرانی اور مؤثر قانون نافذ کرنے سے ہی اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔شہریوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ منشیات کے عادی افراد کے علاج اور بحالی کے لیے خصوصی مراکز قائم کیے جائیں، جبکہ تعلیمی اداروں اور عوامی سطح پر منشیات کے نقصانات سے متعلق آگاہی مہمات بھی چلائی جائیں۔دوسری جانب بعض ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ چند منشیات فروشوں کے ایجنٹوں کے ساتھ بعض پولیس اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت موجود ہے، تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔پولیس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ منشیات فروشوں کے خلاف متعدد کارروائیاں کی جا چکی ہیں۔ پولیس کے مطابق منشیات کے نیٹ ورک کے مؤثر خاتمے کے لیے عوامی تعاون بھی ناگزیر ہے۔