ایمل ولی خان کی حکومت پر کڑی تنقید، نئے صوبوں اور ایوارڈز پر کھلی بحث کا مطالبہ

ایمل ولی خان کی حکومت پر کڑی تنقید، نئے صوبوں اور ایوارڈز پر کھلی بحث کا مطالبہ

Aug 22, 2026|ویب ڈیسک

پشاور( اباسین خبر)اے این پی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے سینیٹ اجلاس میں حکومتی و سیاسی نظام، معاشی پالیسیوں، سرکاری اعزازات اور نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ایمل ولی خان نے کہا کہ موجودہ نظام نے جمہوریت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جو وزرا حکومت میں رہتے ہوئے نظام کو ناکام قرار دیتے ہیں انہیں اس ناکامی کی وجوہات بھی قوم کے سامنے بیان کرنی چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام پر طاقت استعمال کرنے اور صرف ووٹ لینے کے بجائے قومی ترقی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ آئینی عہدے محض پروٹوکول کے لیے نہیں بلکہ عوامی خدمت اور مؤثر حکومتی کردار ادا کرنے کی ذمہ داری ہیں۔ ان کے بقول موجودہ حالات کی ذمہ داری مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی بھی قبول کریں۔اے این پی رہنما نے سرکاری اعزازات کی تقسیم پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عوام مہنگائی اور معاشی مشکلات سے دوچار ہیں، ایسے میں ایوارڈز دینے کا معیار واضح ہونا چاہیے۔ انہوں نے سوال کیا کہ وزیر داخلہ کو کس کارکردگی کی بنیاد پر تمغہ دیا گیا اور مطالبہ کیا کہ حکومت اعزازات کے معیار سے قوم کو آگاہ کرے۔ایمل ولی خان نے نئے صوبوں کے قیام پر پارلیمان میں تفصیلی بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ واضح کیا جائے کہ مزید صوبے بنانے ہیں یا نہیں اور اس کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔ انہوں نے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کی سابقہ تجاویز پر بھی سوال اٹھایا۔انہوں نے زور دیا کہ پختون، بلوچ، سندھی، پنجابی اور سرائیکی سمیت تمام قوموں کو ان کے آئینی حقوق دیے جائیں۔ ان کے مطابق پاکستان کو قوموں کو دبانے سے نہیں بلکہ انہیں حقوق اور مساوی مواقع دے کر مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔