ملک کو مستقل بنیادوں پر قومی ذخائر قائم کرنے کی سمت پیش رفت کرنا ہوگی:ماہرین

ملک کو مستقل بنیادوں پر قومی ذخائر قائم کرنے کی سمت پیش رفت کرنا ہوگی:ماہرین

Aug 3, 2026|ویب ڈیسک

لاہور( کامرس ڈیسک)آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال نے پاکستان کی توانائی سلامتی سے متعلق اہم سوالات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔اگرچہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت مکمل طور پر بند نہیں ہوئی، تاہم کشیدگی کے باعث تیل کی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں اور عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے واضح کر دیا ہے کہ درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے پاکستان کے لیے اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر کا قیام وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔تحقیقی جائزے کے مطابق پاکستان کے پاس تاحال حکومت کی ملکیت میں ایسا قومی اسٹریٹجک پٹرولیم ریزرو موجود نہیں جو کئی ہفتوں یا مہینوں تک ملکی ضرورت پوری کر سکے۔ توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کو مستقل بنیادوں پر قومی ذخائر قائم کرنے کی سمت پیش رفت کرنا ہوگی۔رپورٹ کے مطابق سابق حکومتوں کے ادوار میں بھی توانائی ماہرین نے کم از کم 60 دن کے لیے پٹرولیم ذخائر بنانے کی سفارش کی تھی۔ذرائع کے مطابق موجودہ حکومت نے صورتحال کے پیش نظر اسٹریٹجک ذخائر کے قیام پر دوبارہ کام تیز کر دیا ہے۔وزارت پٹرولیم نے مختلف تجاویز کا جائزہ شروع کر دیا ہے، جن میں بندرگاہوں کے قریب بڑے آئل اسٹوریج ٹرمینلز کی تعمیر، زیر زمین ذخائر یا جدید اسٹیل ٹینکس کا قیام، نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے لیے لازمی ذخائر برقرار رکھنے کی شرط شامل ہے۔