شام میں بے گھر شہریوں کی واپسی شروع، بنیادی سہولیات کا بحران برقرار

شام میں بے گھر شہریوں کی واپسی شروع، بنیادی سہولیات کا بحران برقرار

Oct 1, 2026|ویب ڈیسک

نیویارک( مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے ادارے کے مطابق جنگ اور تشدد کے باعث کیمپوں میں پناہ لینے والے ہزاروں شامی شہری اپنے علاقوں کو واپس لوٹ رہے ہیں، تاہم واپسی کے بعد انہیں بنیادی ضروریات کی کمی سمیت مختلف مشکلات کا سامنا ہے۔اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور کے مطابق صرف جولائی اور اگست میں تقریباً 39 ہزار افراد نے بے گھر افراد کے کیمپ اور مراکز چھوڑے۔ ادارے نے واپسی کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب انسانی امداد کی ضرورت ان علاقوں میں بڑھ رہی ہے جہاں متاثرہ خاندان دوبارہ آباد ہو رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق تباہ شدہ مکانات، محدود بنیادی سہولیات اور روزگار کے کم مواقع لوگوں کے لیے معمول کی زندگی بحال کرنے میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار پانی و بجلی کے نظام، ہسپتالوں، اسکولوں، بیکریوں، سڑکوں اور گھروں کی بحالی میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔حلب اور ادلب میں ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد کو روٹی کی بہتر فراہمی ممکن بنائی گئی ہے، جبکہ مزید سہولیات سے تقریباً 3 لاکھ 20 ہزار افراد کے مستفید ہونے کی توقع ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق جنوری سے جولائی تک ہر ماہ اوسطاً 25 لاکھ شامی شہریوں کو خوراک، صحت، رہائش، صاف پانی اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں امداد دی گئی، جبکہ متاثرہ خاندانوں کو تقریباً 12 کروڑ ڈالر نقد رقم اور امدادی کوپن کی صورت میں فراہم کیے گئے۔