آئینی عدالت کا نئی گج ڈیم کیس میں بڑا فیصلہ، تعمیر میں عدالتی مداخلت روک دی
اسلام آباد( اباسین خبر) وفاقی آئینی عدالت نے نئی گج ڈیم کی تعمیر سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے منصوبے کی تکمیل تک کسی بھی عدالت کو اس میں مداخلت سے روک دیا ہے۔ایکسپریس نیوز کے مطابق چیف جسٹس امین الدین خان کی جانب سے تحریر کردہ 17 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس ہدایت کا مقصد مزید قانونی کارروائی کو عوامی مفاد کے اس اہم منصوبے کی تکمیل میں رکاوٹ بننے سے روکنا ہے۔عدالت نے نئی گج ڈیم سے متعلق ہائی کورٹ کے فیصلے اور احکامات کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ نے قانون کو مدنظر رکھے بغیر ہدایات جاری کیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ہائی کورٹ نے تنازعات کے حل کے طریقہ کار، واپڈا قوانین اور نیب قوانین کو بھی نظر انداز کیا۔وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ ڈیم کی تعمیر کے معاہدے میں تنازعات کے حل کے لیے جو طریقہ کار طے کیا گیا ہے، اسی کے مطابق معاملات نمٹائے جائیں گے۔ عدالت نے واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار کو ازسرِنو نہیں لکھا جا سکتا اور آئینی حدود سے تجاوز انصاف کی کھلی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔عدالت نے امید ظاہر کی کہ تمام فریقین اصل معاہدے کے مطابق آگے بڑھیں گے، جبکہ واپڈا کو ہدایت کی گئی ہے کہ کنٹریکٹر کی شکایت موصول ہونے کے 15 روز کے اندر فیصلہ کیا جائے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اگر کنٹریکٹر معاہدے کی خلاف ورزی کرے تو واپڈا قانون کے مطابق منصوبے کے کام دوبارہ ٹینڈر کرنے کا مجاز ہوگا۔