خضدار واقعہ پر بلوچستان اسمبلی میں احتجاج، ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ

خضدار واقعہ پر بلوچستان اسمبلی میں احتجاج، ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ

Aug 6, 2026|ویب ڈیسک

کو ئٹہ( اباسین خبر)بلوچستان اسمبلی میں خضدار میں اسماء جتک کے اغواء اور ان کے والد کے قتل کے واقعے پر شدید احتجاج کیا گیا۔ صوبائی وزراء، اپوزیشن لیڈر اور اراکین اسمبلی نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔اراکین اسمبلی حاجی علی مدد جتک، میر یونس عزیز زہری، میر زابد علی ریکی، انجینئر زمرک خان اچکزئی اور مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ اگر بروقت کارروائی کی جاتی تو یہ سانحہ پیش نہ آتا، اس لیے متعلقہ پولیس افسران کو عہدوں سے ہٹایا جانا چاہیے۔اجلاس میں صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک نے کہا کہ خضدار میں انتظامی افسران کی موجودگی کے باوجود ایک خاتون کے بھائی کو اغواء کیا گیا اور ان کے والد کو قتل کر دیا گیا، جبکہ ملزمان کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کے باوجود مقدمہ درج نہ ہونا باعث تشویش ہے۔اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری نے کہا کہ متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے، بصورت دیگر ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔ انہوں نے واقعے پر حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے۔اراکین اسمبلی نے بلوچستان میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور امن و امان کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ صوبہ دہشتگردی اور بدامنی کے مسائل کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ میر زابد علی ریکی نے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔احتجاج کے دوران حاجی علی مدد جتک اور میر یونس عزیز زہری نے اسمبلی اجلاس سے واک آؤٹ بھی کیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے واقعے سے متعلق رپورٹ طلب کر رکھی ہے۔