اے ایس پی ندا نے میر رضا کی منگیتر سے ملاقات کی وجہ بتادی
لاہور( ویب ڈیسک) کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کے قتل کیس میں اے ایس پی ندا نے کمیشن کے سامنے بیان دیتے ہوئے منگیتر سے ملاقات کی وجہ بتادی۔اے ایس پی ندا نے کہا کہ وہ ارشد آفریدی کے ہمراہ میر رضا کی منگیتر کے پاس خاتون ہونے کی حیثیت سے معاونت کے لیے گئی تھیں۔کمیشن نے سوال کیا کہ کیا جاری تحقیقات کے دوران دوسرے صوبے کے افسر کی ہدایت پر کارروائی کرنا معمول ہے اور کیا انہیں تفتیش میں مداخلت کا اختیار حاصل تھا؟ کمیشن کے مطابق اس اقدام نے اے ایس پی ندا کے کردار کو مشکوک بنایا۔اے ایس پی ندا نے بتایا کہ علی شاز سے تحقیقات کے سلسلے میں ملاقات معمول کے مطابق تھی، جبکہ گواہ کا بیان ریکارڈ کرنا تفتیشی ٹیم کی ذمہ داری تھی۔کمیشن نے آڈیو نوٹ اور اس کے متعلق پیغامات ایس ایس پی کو بھیجنے پر بھی سوالات کیے اور کہا کہ اسی آڈیو کے بعد قرضے سے متعلق بیانیہ سامنے آیا۔ اے ایس پی ندا نے اسکرین شاٹ بھیجنے کے بارے میں کہا کہ انہیں یاد نہیں۔کمیشن نے مزید پوچھا کہ میر رضا کی جانب سے صارم کو 3 کروڑ روپے سے متعلق بھیجے گئے پیغام کے اسکرین شاٹس میڈیا تک کیسے پہنچے۔ اے ایس پی ندا نے کہا کہ انہیں اس بارے میں علم نہیں۔ان کے مطابق ایس ایس پی سمیع اللّٰہ سومرو کی ٹیم اس وقت خودکشی یا قتل کے کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچی تھی بلکہ شواہد جمع کر رہی تھی، بعدازاں کیس دوسری ٹیم کو منتقل ہوگیا۔