بدخشان میں طالبان مخالف سرگرمیاں تیز، مختلف مزاحمتی گروہوں کی کارروائیوں کا دعویٰ

بدخشان میں طالبان مخالف سرگرمیاں تیز، مختلف مزاحمتی گروہوں کی کارروائیوں کا دعویٰ

Jul 24, 2026|ویب ڈیسک

کا بل( مانیٹرنگ ڈیسک)افغانستان کے مختلف علاقوں، خصوصاً صوبہ بدخشان میں طالبان حکومت کے خلاف مزاحمتی سرگرمیوں اور اندرونی اختلافات سے متعلق دعوے سامنے آ رہے ہیں، جبکہ مختلف طالبان مخالف گروہ اپنی سرگرمیوں میں اضافے کا اعلان کر رہے ہیں۔رپورٹس کے مطابق بدخشان میں چند ماہ کے دوران دوسرے ضلعی گورنر کی برطرفی نے طالبان کی مقامی قیادت میں اختلافات کی بحث کو مزید تقویت دی ہے۔افغان میڈیا کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سپاہیانِ میہن نامی ایک نئے مسلح گروہ نے ضلع یفتلی سفلی پر قبضے کا دعویٰ کرتے ہوئے اپنی موجودگی کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ ان اطلاعات کے مطابق اس گروہ میں سابق سکیورٹی اہلکاروں اور مقامی افراد سمیت مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔دوسری جانب ساؤتھ ایشیا ٹیررزم پورٹل کی رپورٹ کے مطابق طالبان قیادت اور جمعہ خان فاتح کے درمیان اختلافات بدستور برقرار ہیں، جبکہ بدخشان میں ان کے حامیوں اور طالبان حکام کے درمیان کشیدگی بھی جاری ہے۔رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بدخشان میں تعینات ضلعی گورنر قاری مطیع الرحمان کو تقرری کے ایک ہفتے بعد ہی عہدے سے ہٹا دیا گیا، جسے بعض مبصرین اندرونی اختلافات سے جوڑ رہے ہیں۔ادھر طالبان مخالف مزاحمتی تنظیم نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے اپنے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر ایک نئی ویڈیو جاری کی ہے، جس میں تنظیم کے بقول اس کے جنگجو ایک اہم علاقے میں گشت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح افغانستان فریڈم فرنٹ بھی بدخشان سمیت افغانستان کے مختلف صوبوں میں اپنی سرگرمیوں کا دعویٰ کر رہا ہے۔ان تمام دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ طالبان حکومت کی جانب سے بھی ان رپورٹس پر باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا ہے۔